چھ افراد کو دھماکے کی منصوبہ بندی پر سزا

Image caption ان تمام مجرمان کی عمر بیس سے تیس سال کے درمیان ہے

برطانیہ میں چھ افراد کو ’انگلش ڈیفنس لیگ ریلی‘ میں بم دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں ساڑھے انیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عمر خان، جوئل الدین، محمد حسین، محمد سعود، زوہیب احمد اور انزال حسین نے اپریل میں دہشت گردی کے الزامات کا اعتراف کر لیا تھا۔

گذشتہ جون ہونے والی اس ریلی میں مجرمان میں سے پانچ ایک بم، چھریاں اور بندوقیں لے کر گئے تھے تاہم وہ ریلی کے انعقاد کے دو گھنٹے بعد وہاں پہنچے۔

تمام مجرمان برمنگھم یا اُس کے مضافات کے رہائشی تھے۔ اُن کی گرفتاری اُس وقت عمل میں آئی جب اِن میں سے دو کی گاڑی کو پولیس نے روکا اور اُن کے پاس گاڑی کی انشورنس پالیسی نہیں تھی۔ اُسی گاڑی سے ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔

عمر خان، جوئل الدین اور زوہیب احمد کو ساڑھے انیس سال قید اور پانچ سال بطور لائنس توسیع سزا سنائی گئی۔ محمد حسین، محمد سعود اور انزال حسین کو اٹھارہ سال نو ماہ قید اور پانچ سال بطور لائنس توسیع سزا سنائی گئی۔

برطانیہ میں گذشتہ سال متعارف کروائی جانے والی طویل تر سزاؤں کے مطابق مجرمان اپنی سزائوں کا دو تہائی حصہ حراست میں گزارتے ہیں۔ دیگر ایک تہائی اور بطور لائنس توسیع سزا مجرمان زیرِ حراست نہیں مگر زیرِ نگرانی گزارتے ہیں۔

اِن چھ مجرمان کی سزاؤں میں ایک چوتھائی کمی کی گئی ہے کیونکہ انھوں نے مقدمے کے آغاز سے پہلے ہی اقبالِ جرم کر لیا تھا۔

سزا سناتے ہوئے جج نکلولاس ہلارڈ کا کہنا تھا کہ مجرمون نے جو ہتھیار یعنی کیلوں سے بنایا گیا بم استعمال کرنے والے تھے وہ انتہائی بھیانک ہتھیار ہوتا اور اُس سے اگر جان لیوا نہیں تو شدید سنگین زخم آتے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بچگانہ کوشش نہیں بلکہ ایک وسیع تر اور پرعزم کوشش تھی۔

مجرمان سے مخاطب ہوتے ہوئے جج نے کہا کہ ’آپ اس قدر سنگین جرائم میں ملوث کیسے ہوئے؟ اس کا جزوی جواب تو اس میں پناہ ہے کہ آپ نے خود پر عام طور پر موجود شدت پسندانہ مواد حاوی کر لیا تھا۔‘

انگلش ڈیفنس لیگ کےرہنما ٹومی رابنسن اور ان کے نائب کیون کیرل نے سزا سنائے جانے کے موقع پر ’گاڈ سیوو دی کیوئین‘ کے نعرے لگائے۔ دوسری جانب گیلری سے رونے کی آوازیں اور ’اللہ اکبر‘ کے نعروں کی آوازیں بھی آئیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مجرموں کا منصوبہ صرف اس وجہ سے ناکام ہوا کیونکہ انگلش ڈیفنس لیگ کی ریلی مقررین کی کمی کی وجہ سے متوقع وقت سے پہلے اختتام کو پہنچ گئی۔

ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل مارکس بیئل نے کہا کہ مجرموں کے ہتھیار شاید اس قدر مہلک نہیں تھے تاہم اُن کا کام کرنے کا انداز ضرور پیچدہ تھا یہی وجہ ہے کہ انھیں پکڑنا مشکل تھا۔

’میں انھیں کوئی مزاحیہ کردار نہیں سمجھتا۔ میرے خیال میں وہ انتہائی خطرناک افراد ہیں جنہیں انصاف کے کٹھرے میں لایا جانا چاہیے تھا۔‘

عمر خان اور جوئل الدین کو برمنگھم جاتے ہوئے اس لیے روکا گیا کیونکہ اُن کی گاڑی قدرے پرانی معلوم ہو رہی تھی اور جب پولیس والوں نے اُسے روکا تو معلوم پڑا کہ گاڑی کی کوئی انشورنس پالیسی نہیں تھی۔ گاڑی کو پولیس کی تحویل میں لے لیا گیا اور دو روز کے بعد گاڑی میں سے ہتھیار برآمد ہوئے۔

ہتھیاروں کے علاوہ مجرموں کے پاس سے ایسے پیغامات بھی ملے جن میں ملکہ برطانیہ اور وزیراعظم کیمرون کا حوالہ دیا گیا تھا اور لیگ کو براہِ راست پیغام میں کہا گیا کہ آج انتقام کا دن ہے۔‘

اسی بارے میں