کابل ہوائی اڈے کے قریب شدید جھڑپ

Image caption افغان پولیس نے حملے کے اردگرد کے مقام کو گھیرے میں لے لیا ہے

پولیس نے کہا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مقامی فورسز نے بھاری مشین گنوں اور آر پی جی سے لیس سات عسکریت پسند ہلاک کر کے حملہ پسپا کر دیا ہے۔

کابل پولیس نے بتایا ہے کہ سات مسلح افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور حملہ ختم ہو گیا ہے۔

طالبان نے کہا ہے کہ حملہ انھوں نے کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن موقعے پر موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن فوری ردِ عمل والی افغان فوج نے کیا اور اس میں بین الاقوامی فوج نے ان کا ہاتھ نہیں بٹایا۔

کابل کے ہوائی اڈے پر آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ کابل کا ہوائی اڈہ نیٹو فوج کا ملٹری بیس بھی ہے۔

کابل پولیس کے سربراہ ایوب سلنگی نے بی بی سی کو بتایا کہ تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور اب یہ ’ڈراما‘ ختم ہو گیا ہے۔

ڈیوڈ لوئن کہتے ہیں کہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ہوا میں گردش کر رہے تھے لیکن زمینی لڑائی افغان فورسز نے لڑی جو اب پہلے کی نسبت بہت بہتر ہو گئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق کابل میں امریکی سفارت خانے میں الارم بجا دیا گیا تھا۔ اس الارم کا مطلب ہے کہ سفارتخانے کے عملے کو کہا جا رہا ہے کہ ’نیچے رہیں اور اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سفارت خانے میں اعلان کیا گیا کہ یہ الارم معمول کی مشقوں کا حصہ نہیں ہے۔

طالبان نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ بہار کے موسم میں غیرملکی فوجی اڈوں اور سفارتی ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔

گذشتہ ماہ افغان سکیورٹی فورس نے کابل کے مرکز میں ایک بڑے دھماکے کے بعد چار گھنٹوں تک طالبان کے ساتھ جنگ کی تھی۔

2014 کے اواخر تک بین الاقوامی فوج کی اکثریت افغانستان سے چلی جائے گی۔ اگلے چند ماہ کے اندر اندر افغان فوج 1992 کے بعد سے پہلی بار تمام ملک کی سکیورٹی کی ذمے داری سنبھال رہی ہے۔