آسٹریلیا میں غرقاب کشتی: بچنے والوں کی تلاش ختم

Image caption اس طرح کی کشتیوں پر گنجائش سے زیادہ افراد سوار ہوتے ہیں

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ اس نے پناہ گزینوں کی اس کشتی میں بچنے والوں افراد کی تلاش ختم کر دی ہے جو دو روز قبل جزیرۂ کرسمس کے شمال میں ڈوب گئی تھی۔

حکام نے کہا ہے کہ کشتی پر کم از کم 55 افراد سوار تھے۔

بحری جہازوں اور طیاروں نے اب تک 13 لاشوں اور ملبے کی نشان دہی کی ہے۔

کشتی کو بدھ کے روز جزیرۂ کرسمس کے شمال مغرب میں آخری بار دیکھا گیا تھا۔ یہ جگہ انڈونیشیا سے قریب ترین ہے۔ اس وقت کشتی کسی مشکل کا شکار نہیں دکھائی دیتی تھی۔

بحریہ کا ایک جہاز اس کشتی کی تلاش میں گیا لیکن اسے کشتی نہیں ملی۔ بعد میں ایک طیارے نے جمعے کو اس کا ڈوبا ہوا اگلا حصہ دیکھا۔

حکام نے کہا ہے کہ کشتی پر بظاہر 55 کے قریب افراد سوار تھے۔ ان کی قومیت نامعلوم ہے، لیکن کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا آنے والے بہت سے سیاسی پناہ کے متلاشیوں کا تعلق انڈونیشیا، سری لنکا، عراق اور افغانستان سے ہوتا ہے۔

جہاز اور طیارے اختتامِ ہفتہ کو بچ جانے والوں کو تلاش کرتے رہے لیکن اتوار کو دیر گئے یہ تلاش بند کر دی گئی کیوں اتنے عرصے تک پانی میں کسی کا زندہ بچنا مشکل ہے۔

آسٹریلین میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی نے کہا ہے کہ اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ آیا لاشیں بازیاب کرنے کی کوشش شروع کی جائے یا نہیں۔

وزیرِداخلہ جیسن کلیئر نے اتوار کو کہا: ’یہ ایک اور ہول ناک المیہ ہے، ایک اور ہول ناک یاددہانی ہے کہ اس طرح کے سفر کتنے خطرناک ہوتے ہیں۔‘

حالیہ مہینوں میں کشتی کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے والوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ برس حکومت نے پاپوا نیو گنی اور ناورو میں پناہ گزینوں کی درخواستوں کی سماعت کے لیے مرکز اور کیمپ قائم کیے تھے تاکہ لوگ کشتیوں میں سمندر کا خطرناک سفر نہ کر سکیں۔

لیکن ان کیمپوں میں درخواستوں کی سماعتوں کی پالیسی اور کیمپوں کے حالات کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور کشتیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں