عراق:بم دھماکوں، خودکش حملے میں 70 ہلاک

Image caption عراق میں تشدد میں دوبارہ سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس میں فرقہ وارانہ تشدد نمایاں ہے

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں میں بم دھماکوں اور حملوں میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق پیر کو سب سے پہلے صوبہ دیالہ میں شیعہ اکثریتی قصبے جدیدہ الشط میں دو کار بم دھماکے اور ایک خودکش حملہ ہوا اور ان حملوں میں تیرہ افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے۔

اس کے بعد سنّی اکثریتی شہر موصل میں حفاظتی چوکیوں کے قریب ہونے والے کار بم دھماکوں میں کم از کم 24 افراد مارے گئے۔

اس کے علاوہ کرکوک، تاجی اور تکریت میں ہونے والے حملوں میں بھی درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عراق میں تشدد میں دوبارہ سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس میں فرقہ وارانہ تشدد نمایاں ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق جون 2008 کے بعد سے اب تک گزشتہ ماہ عراق میں سب سے خونی مہینہ ثابت ہوا جب 1045 عراقی شہری اور سکیورٹی اہلکار پرتشدد واقعات میں مارے گئے

جدیدہ الشط میں دھماکوں کا نشانہ سبزی منڈی بنی جو کہ دیالہ کے صوبائی دارالحکومت بعقوبہ کے نواح میں واقع ہے۔ ایک مقامی کسان حسن ہادی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ’میں تربوز فروخت کر رہا تھا کہ میں نے بازار کے داخلی دروازے پر زوردار دھماکے کی آواز سنی۔ میں اڑتی مٹی اور دھول میں وہاں سے بھاگا کہ دوسرے دھماکے نے علاقے کو جنہم بنا دیا۔‘

اس علاقے میں حالیہ دنوں میں متعدد حملے ہوئے ہیں۔ جمعہ کو دیالہ کے علاقے مقدادیہ میں ایک خودکش حملہ آور نے دس ایرانی زائرین کو ہلاک کر دیا تھا۔

پیر کی ہی دوپہر کو بغداد کے شمال میں تاجی کے علاقے میں مچھلی بازار میں ایک کار بم پھٹنے سے کم از کم 7 افراد مارے گئے۔

اس واقعے کے کچھ دیر بعد موصل میں عراقی پولیس اور فوج کو کار بم دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں 24 افراد مارے گئے۔

طبی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ مرنے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق عراقی سکیورٹی فورسز سے ہی ہے۔ ان حملوں کے بعد موصل میں کرفیو لگا دیا گیا۔

تاحال کسی گروپ نے پیر کو ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں