شام: حکومتی فورسز کی حلب پر حملے کی تیاری

Image caption گزشتہ سال سے شام کے شمالی شہر حلب باغیوں کے زیر تسلط ہے

شام میں حکومتی فورسز نے ملک کے شمالی شہر حلب اور اس کے اطراف میں بھر پور حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔شام میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ ’چند گھنٹوں یا دنوں میں شروع ہو سکتا ہے‘۔

شہر میں موجود حزب مخالف کے اراکین نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی دستے اور حزب اللہ کے جنگجُو حلب شہر میں بھیجے گئے ہیں‘۔

اس سے پہلے حکومتی فورسز نے حزب اللہ کے جنگجُو کے تعاون سے محصور قصبے قصیر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا ہے۔

اتوار کو لبنانی سرحد سے نزدیکی علاقے حمص میں حکومتی فورسز نے باغیوں کا گڑھ تصور کیے جانے والے علاقے حمص پر تسلط حاصل کیا۔

شام کے شمالی علاقوں میں گزشتہ کچھ مہینوں سے باغیوں کو برتری حاصل ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے حلب میں صورتحال یکساں ہے۔ لیکن قصیر میں باغیوں کی شکست کو شامی فوج فیصلہ کُن فتح قرار دے رہی ہے۔

اس سے پہلے سوموار کو حلب میں حزب مخالف کے اراکین نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے جنوبی علاقے میں فوج تعینات کی جا رہی ہے اور صدر بشار الاسد کے حمامی جنگجُوؤں کو اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ فوج ملک کے شمالی اور جنوب کے علاقے میں دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کوشش کر رہی ہے تاکہ ترکی سے آنے والی رسد کے راستے بند کئے جا سکیں۔

حکومت کے حمایتی اخبار ’ آل وطن‘ میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’ حلب کے اندر اور مضافات میں لڑائی کے لیے بڑے پیمانے پر فوج تعینات کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں محصور علاقوں کو آزاد کرایا جائے گا اور پھر دفاعی دستے بھی لڑائی میں شامل ہو جائیں گے‘۔

ادھر سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حکومتی فوج کا اگلا ہدف حلب ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ’حلب میں لڑائی آنے والے دنوں یا گھنٹوں میں شروع ہو سکتی ہے اور اس کا مقصد صوبے کے گاؤں اور قصبوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے‘۔

اس معرکے کو ’آپریشن ناردن سٹروم‘ کا نام دیا گیا ہے۔

باغیوں کے کمانڈر اور سابق فوجی آفسر بریگیڈر جنرل مصطفٰی الشیخ نے بتایا کہ حکومت عراقی شیعہ آبادی ، حزب اللہ کے جنگجُوں کے ساتھ اپنی جگہ سنھبالنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ’قصیر کی جنگ میں کامیابی سے انھیں برتری ملی ہے لیکن اُنھیں پتہ چلےگا کہ حلب میں پیش رفت اُن کے لیے اتنی آسان نہیں ہے‘۔

گزشتہ ماہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ بشار الاسد کی حمایتی فوج میں اپنے جنگجُو بھیجنے کا اعلان کیا اور لبنان کو جہادیوں سے بچانے اور باغیوں کی شکست تک لڑنے کا اعادہ کیا تھا۔

دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے مبصر گروہ نے کہا ہے کہ باغیوں نے 15 سال عمر کے ایک لڑکے کو اُس کے والدین کے سامنے قتل کر دیا ہے۔ لڑکے کو توہین رسالت کے جرم میں سزا دی گئی ہے۔

گروہ کا کہنا ہے کہ محمد قاطع کو باغیوں نے ایک دن حراست میں رکھنے کے بعد اُس کی گردن اور چہرے پر گولی ماری ہلاک کر دیا۔

اسی بارے میں