دریائے نیل پر ڈیم بنانے پر تنازعہ

Image caption ’اگر یہ ایک قطرہ بھی کم ہوتا ہے تو ہمارا خون اس کا متبادل ہے‘۔ صدر مرسی

مصری صدر محمد مرسی کا کہنا ہے کہ مصر کی پانی کی رسد کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے کوئی بھی راستہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات انھوں نے ایتھوپیا کی جانب سے دریائے نیل پر ڈیم بنانے کے حوالے سے کہی۔

صدر مرسی نے کہا کہ وہ جنگ کا اعلان نہیں کر رہے مگر وہ مصر کو پانی کی رسد کو خطرے میں نہیں پڑنے دیں گے۔

گذشتہ ماہ جب ایتھوپیا نے ایک بجلی پیدا کرنے والے ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں دریائے نیل کے ایک حصے ’بلو نیل‘ کا رخ موڑنا شروع کیا تو بظاہر مصر میں اس بات پر حیرانگی سامنے آئی۔

بلو نیل دریائے نیل کی ایک شاخ ہے اور مصر کا اس پر بہت انحصار ہے۔

’دی گریٹ ایتھوپیئن رینیسائنس ڈیم‘ چار اعشاریہ سات ارب ڈالر کا پروجیکٹ ہے جو کہ ایتھوپیا کے مطابق چھ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرئے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی وجہ سے بلو نیل کا بہاؤ تھوڑا سا تبدیل کیا جائےگا اور پھر وہ دریا اپنے قدرتی راستے پر ہی چلے گا۔

پیر کو صدر مرسی کا کہنا تھا کہ ’مصر کے آبی ذخائر کے تحفظ کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا اور بحیثیت صدر میں آپ کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ تمام راستے کھلے ہیں۔‘

ٹی وی پر نشر کی گئی ایک جذباتی تقریر میں دریائے نیل کے بارے میں ایک کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر مصر نیل کا تحفہ ہے تو نیل مصر کو تحفہ ہے۔‘

’مصریوں کی بطور ایک عظیم قوم، زندگیاں اس سے منسلک ہیں۔ اگر یہ ایک قطرہ بھی کم ہوتا ہے تو ہمارا خون اس کا متبادل ہے۔‘

مصبرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر صدر مرسی اس موضوع کو ملک میں شدید اندرونی سیاسی اور معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

مصر خاص طور پر دریائے نیل پر انحصار کرتا ہے اور ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی سے اس ذخیرے پر بھی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ سوڈان کا بھی نیل کے پانی پر انحصار ہے۔

مصر برطانوی راج کے وقت کیےگئے ایک فیصلے کا حوالہ دیتا ہے جس کے تحت نیل کے بیشتر پانی پر حق مصر اور سوڈان کا ہے جبکہ ایتھوپیا کا کہنا ہے کہ وہ فیصلہ اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔

صدر مرسی کا کہنا ہے کہ مصر کو دیگر ممالک کے ترقیاتی منصوبوں پر کوئی اعتراض نہیں جب تک وہ مصر کے قانونی اور تاریخی حقوق پر اثر انداز نہیں ہوتے۔

گذشتہ ہفتے مصری سیاستدان ٹی وی پر آکر اس ڈیم کے سلسلے میں عسکری ردِ عمل کا مطالبہ کرتے دیکھائی دیے۔

اسی بارے میں