’نگرانی کا راز افشا کرنے والے سنوڈن غدار ہیں‘

Image caption ایڈورڈ سنوڈن بیس مئی کو ہانگ کانگ پہنچے تھے اور اب ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں

امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر جان بوہینر نے امریکی حکومت کے فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے نگرانی کے پروگرام کی معلومات منظر عام پر لانے والے سی آئی اے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن کو غدار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے اس عمل سے لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔

تاہم امریکی صدر کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ سنوڈن کے بارے میں رائے زنی کا مناسب وقت نہیں ہے۔

انتیس سالہ ایڈورڈ سنوڈن اس وقت لاپتا ہیں۔ انہوں نے پیر کو ہانگ کانگ کا وہ ہوٹل چھوڑ دیا جہاں وہ قیام پذیر تھے اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں ہی موجود ہیں۔

امریکی سپیکر نے اے بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ سنوڈن کے اقدامات قانون کی بڑی خلاف وزری ہیں۔ ’وہ ایک غدار ہے۔ ان معلومات کے افشا ہونے سے امریکیوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ اس سے ہمارے دشمنوں کو ہماری صلاحیتوں کے بارے میں علم ہوگیا ہے۔‘

تاہم منگل کو ہی واشنگٹن میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران امریکی صدر کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ وہ سنوڈن کے کردار یا ان کے عمل پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ مناسب یہی ہے کہ تحقیقات کو آگے بڑھنے دیا جائے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ایف بی آئی اور امریکی محکمۂ انصاف کا کام ہے کہ وہ سنوڈن کے اقدامات کے بارے میں رائے دے۔

ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کے بارے میں برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا تھا اور اخبار نے انہی کے کہنے پر ان کا نام ظاہر کیا۔

سی آئی اے کے سابق ٹیکنیکل اسسٹنٹ سنوڈن نے کہا تھا کہ انہوں نے پرزم نامی اس پروگرام کے بارے میں معلومات عام کرنے کا فیصلہ ساری دنیا لوگوں کو آزادیوں کو بچانے کے لیے کیا۔

واضح رہے کہ برطانوی اخبار گارڈین نے خبر شائع کی تھی کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے اس پروگرام کے ذریعے لوگوں کی ذاتی ویڈیوز، تصاویر اور ای میلز تک نکال لی جاتی ہیں تاکہ مخصوص لوگوں پر نظر رکھی جا سکے۔

بعدازاں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے تسلیم کیا تھا کہ حکومت انٹرنیٹ کمپنیوں سے صارفین کی بات چیت کا ریکارڈ حاصل کرتی ہے تاہم انہوں نے کہا تھا کہ معلومات حاصل کرنے کی پالیسی کا ہدف صرف’غیر امریکی افراد‘ ہیں۔

اسی بارے میں