دمشق:خودکش دھماکوں میں چودہ افراد ہلاک

Image caption دمشق کے اس ہی علاقے میں چھ ہفتے قبل بھی دھماکے ہوئے تھے

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت دمشق میں دو خودکش دھماکوں میں 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دمشق کے مرکز میں ہونے والے خودکُش دھماکوں میں کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکے شہر کے مصروف تجارتی علاقے میں پولیس کی عمارت کے قریب ہوئے۔

دمشق میں یہ دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب شامی فوج قصیر میں کنٹرول حاصل کرنے کے بعد شمالی شہر حلب میں حملے کے تیاری کر رہی ہے۔

شام کے آلخبریا ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں بڑی پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

لبنان میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں سے عمارتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان نہیں پہنچا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ دو بم دھماکے پولیس سٹیشن کے قریب ہوئے ہیں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو تھانے کے اندر دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔لیکن ابھی تک کسی بھی پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

دمشق میں اس نوعیت کے بم دھماکے معمول کی بات ہے اور اس ہی علاقے میں چھ ہفتے قبل بھی دھماکے ہوئے ہیں۔

دمشق کے رہائشیوں کے مطابق گزشتہ کئی ماہ کے مقابلے میں شہر اب نسبتًا پرُامن ہو گیا ہے۔

دمشق کے مضافاتی علاقے خاص کر مشرقی اور جنوبی علاقوں میں حکومتی فورسز نے باغیوں پر حملہ کر کے انہیں دارالحکومت سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

قصیر میں حملے کی تیاری

Image caption گزشتہ سال سے شام کے شمالی شہر حلب باغیوں کے زیر تسلط ہے

شام میں حکومتی فورسز نے ملک کے شمالی شہر حلب اور اس کے اطراف میں بھر پور حملے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

شہر میں موجود حزب مخالف کے اراکین نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی دستے اور حزب اللہ کے جنگجُو حلب شہر میں بھیجے گئے ہیں۔

اس سے پہلے حکومتی فورسز نے حزب اللہ کے جنگجُو کے تعاون سے محصور قصبے قصیر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا ہے۔

اتوار کو لبنانی سرحد سے نزدیکی علاقے حمص میں حکومتی فورسز نے باغیوں کا گڑھ تصور کیے جانے والے علاقے حمص پر تسلط حاصل کیا۔

شام کے شمالی علاقوں میں گزشتہ کچھ مہینوں سے باغیوں کو برتری حاصل ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے حلب میں صورتحال یکساں ہے۔ لیکن قصیر میں باغیوں کی شکست کو شامی فوج فیصلہ کُن فتح قرار دے رہی ہے۔

اس سے پہلے سوموار کو حلب میں حزب مخالف کے اراکین نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے جنوبی علاقے میں فوج تعینات کی جا رہی ہے اور صدر بشار الاسد کے حمامی جنگجُوؤں کو اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔

.شام کی فوج کی جانب سے حملے کی تیاری پر امریکہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے میں باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ ’حزب مخالف کو تعاون اور امداد بڑھانے پر مسلسل غور کر رہا ہے صدر نے کہا ہے کہ زمینی فوج بھیجوانے کے بجائے ہم اس طرح کی دیگر مواقعوں کو برؤے کار لائیں گے۔‘

اسی بارے میں