ترک وزیراعظم کی مظاہرین سے ملاقات

Image caption مظاہرین نے وزیراعظم رجب طیب اردگان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ سکیولر ترکی میں شریعت نافذ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں

ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے استنبول کے غازی پارک میں جمع مظاہرین کو حتمی تنبیہ کرنے کے کچھ گھنٹے بعد مظاہرین کے گروپ کے ارکان سے ملاقات کی ہے۔

تقسیم اتحاد نامی گروپ کے دو ارکان اس وفد کا حصہ تھے جسے انقرہ میں وزیراعظم سے ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا۔

اس ملاقات کو استنبول کے غازی پارک اور تقسیم چوک میں پچھلے دو ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہرے ختم کرنے کا آخری حربہ قرار دیا گیا ہے۔

تقسیم اتحاد نامی گروپ کے رکن کنان کلگان نے کہا ہے کہ بات چیت تعمیری ہونی چاہیے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اب تک جس لہجے میں بات ہو رہی ہے وہ بدقسمتی سے مناسب نہیں تھا۔

اس سے قبل ترک وزیراعظم نے مظاہرین سے کہا تھا کہ ’اب برداشت کی حد ہوگئی ہے، میں آخری بار متنبہ کر رہا ہوں‘۔ مظاہرین نے وزیراعظم رجب طیب اردگان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ سکیولر ترکی میں شریعت نافذ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

’تقسیم سالیڈیریٹی گروپ‘ استنبول کے غازی پارک کی تعمیر و تزئینِ نو کے منصوبے کا مخالف ہے اور تقسیم سکوائر میں جمع مظاہرین کے مطابق وہ اس وقت تک غازی پارک سے نہیں جائیں گے جب تک حکومت اس متنازع منصوبے کو واپس لینے کا اعلان نہیں کرتی۔

اس سے پہلے ترکی میں حکمراں جماعت کے نائب چیئرمین اور ترجمان حسین سالک نے کہا تھا کہ استنبول میں غازی پارک کی تعمیر و تزئینِ نو کے متنازع معاملے پر ’ریفرنڈم‘ کروایا جا سکتا ہے۔

حسین سالک نے امید ظاہر کی کہ ’خیرسگالی کے اس اقدام‘ کے نتیجے میں تقسیم سکوائر کو خالی کر دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے بھی خبردار کیا تھا کہ جو لوگ حالات کو بگاڑنا چاہتے ہیں اور پارک میں رکے رہیں گے انہیں پولیس کا سامنا کرنا ہوگا۔

استنبول کے تقسیم سکوائر میں مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ کی 31 تاریخ کو ہوا تھا اور پھر حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیا تھا۔

اسی بارے میں