ترکی:حکومت پارک کی تعمیر روکنے پر رضامند

ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے بعد اور اس بارے میں عدالت کا فیصلہ آنے تک غازی پارک کی تعمیر روکنے پر رضا مند ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ استنبول میں ایک عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ملک میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے جن کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر شہروں تک پھیل گیا تھا۔

ترک حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ آنے تک پارک کی تعمیر کے منصوبے کو شروع نہیں کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق اگر عدالت نے حکومتی فیصلے کی حمایت کی تو اس منصوبے پر لوگوں کی رائے لی جائے گی۔

اس سے پہلے ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے دارالحکومت انقرہ میں استنبول کے غازی پارک میں جمع مظاہرین کے ایک گروپ سے جمعرات کو ملاقات کی تھی۔

تقسیم اتحاد نامی گروپ کے دو ارکان اس وفد کا حصہ تھے جسے انقرہ میں وزیراعظم سے ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا۔

تقسیم اتحاد نامی گروپ نے ترک حکومت کے عدالتی فیصلہ آنے تک پارک کی تعمیر کے منصوبے کو شروع نہ کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’مثبت پیش رفت‘ قرار دیا۔

واضح رہے کہ ترکی میں پارک کی تعمیر کے خلاف 31 مئی سے شروع ہونے والے مظاہروں میں 5 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے جبکہ مظاہروں کا سلسلہ ترکی کے دیگر شہروں تک جا پہنچا تھا۔

اس سے قبل ترک وزیراعظم نے مظاہرین سے کہا تھا ’اب برداشت کی حد ہوگئی ہے، میں آخری بار متنبہ کر رہا ہوں‘۔ مظاہرین نے وزیراعظم رجب طیب اردگان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ سکیولر ترکی میں شریعت نافذ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

’تقسیم سالیڈیریٹی گروپ‘ استنبول کے غازی پارک کی تعمیر و تزئینِ نو کے منصوبے کا مخالف ہے اور تقسیم سکوائر میں جمع مظاہرین کے مطابق وہ اس وقت تک غازی پارک سے نہیں جائیں گے جب تک حکومت اس متنازع منصوبے کو واپس لینے کا اعلان نہیں کرتی۔

رجب طیب ارگان کی حکومت سنہ 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔

اسی بارے میں