ایران:نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ آج

Image caption ایران کے نئے صدر کے انتخاب میں چھ امیدوار میدان میں ہیں

ایران کے عوام جمعہ کو ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر 678 امیدواروں نے اس صدارتی الیکشن میں حصہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن ملک کی شورئ نگہبان نے کل آٹھ امیدواروں کو الیکشن لڑنے کا اہل قرار دیا جن میں سے دو نے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا اور یوں اب چھ امیدوار میدان میں ہیں۔

ان میں اعتدال پسندوں کے نمائندہ حسن روحانی کے علاوہ جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی اور تہران کے میئر محمد باقر قالیباف کے نام اہم ہیں۔

کامیاب ہونے والا امیدوار ملک کے موجودہ صدر محمود احمدی نژاد کی جگہ لے گا جو دو مرتبہ صدر رہنے کے بعد اب آئینی پابندی کی وجہ سے صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں۔

ایرانی آئین کے مطابق کامیاب ہونے والے امیدوار کے لیے پچاس فیصد سے زائد ووٹ لینا ضروری ہے اور اگر 14 جون کو ایسا نہیں ہوتا تو 21 جون کو صدارتی الیکشن کا دوسرا راؤنڈ ہوگا جس میں پہلے راؤنڈ میں ابتدائی دو نمبروں پر آنے والے امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔

ایرانیوں کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کریں۔

آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ پر ان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’جو کوئی بھی منتخب ہوتا ہے اور اگر اسے کثرت سے ووٹ ملتے ہیں تو وہ مخالفین اور دشمنوں کے خلاف زیادہ بہتر طریقے سے کھڑا ہونے کے قابل ہوگا۔‘

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صدارتی انتخاب میں حسن روحانی کی حمایت میں اس وقت اضافہ دیکھا گیا جب منگل کو اس دوڑ میں شامل واحد اصلاح پسند امیدوار محمد رضا عارف نے سابق صدر محمد خاتمی کے مشورے پر اپنا نام واپس لینے کا اعلان کیا۔

یوں اب حسن روحانی کو دو سابق صدور محمد خاتمی اور ہاشمی رفسنجانی کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ ایران میں اسلامی انقلاب لانے والے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی بھی حسن روحانی کے حامی ہیں۔

نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدارتی دوڑ میں شامل قدامت پسند امیدواروں میں تہران کے میئر محمد باقر قالیباف بظاہر مقبول نظر آتے ہیں۔ ان کے ساتھ اس مقابلے میں شامل دیگر قدامت پسند امیدواروں میں سابق وزیرِ خارجہ علی اکبر ولایتی اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی اور محمد غرضی شامل ہیں۔

صدراتی الیکشن کے امیدواروں میں ایران کے مرکزی جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی کو سب سے زیادہ قدامت پسند اور آیت اللہ خامنہ ای کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں 2009 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے کیونکہ صدر احمدی نژاد کے مخالفین کے خیال میں انہیں دھاندلی کر کے جتوایا گیا تھا۔

ایرانی اپوزیشن کے مطابق 2009 کے صدارتی انتخاب کے بعد آنے والے چھ ماہ میں حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اس کے 80 سے زائد حامی ہلاک کر دیے گئے لیکن ایرانی حکومت ان اعدادوشمار کو مسترد کرتی ہے۔

اُس صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والے دو اصلاح پسند امیدوار میر حسین موسوی اور سابق سپیکر مہدی کروبی آج بھی نظربند ہیں۔

اسی بارے میں