ایران:حسن روحانی صدارتی انتخابات میں فاتح

Image caption حسن روحانی اب تک گنے گئے ووٹوں کی بنیاد پر سب سے آگے ہیں

ایران کے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسندوں کے حمایت یافتہ رہنما حسن روحانی نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

انتخابات میں حسن روحانی کی فتح کے بعد امریکی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ایران سے اس کے جوہری گروگرام پر براہ راست بات کرنے پر تیار ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں نومنتخب صدر کو مبارکباد نہیں دی گئی مگر ایرانی لوگوں کی تعریف کی گئی ہے کہ انہوں نے حکومتی رکاوٹوں، سنسرشپ، شفافیت کی عدم موجودگی اور دھمکی آمیز سکیورٹی کے باوجود ہمت کی۔ایران کے انتخابات پر اسی قسم کا ردعمل دیگر یورپی ممالک کی جانب سے بھی آیا ہے۔

صدارتی انتخابات میں حسن روحانی نے پچاس فیصد سے معمولی زیادہ ووٹ لیے ہیں اس لیے ثانوی انتخابات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

تہران کے میئر محمد باقر قالیباف نے دوسری پوزیشن حاصل کی لیکن ان کے ووٹ حسن روحانی کے مقابلے پر بہت کم تھے۔

پانچ کروڑ کے قریب ایرانی ووٹروں میں سے 72.2 فیصد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔روحانی نے عالمی طاقتوں کے ساتھ بہتر روابط کا عزم ظاہر کیا ہے۔

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای تین اگست کو انتخابات کی توثیق کریں گے، جس کے بعد نئے صدر پارلیمان میں حلف اٹھائیں گے۔

وزیرِداخلہ مصطفیٰ محمد نجار نے اعلان کیا کہ حسن روحانی نے کل پڑنے والے 36,704,156 ووٹوں میں سے 18,613,329 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ یہ کل ووٹوں کا 51.71 فیصد بنتا ہے۔

قالیباف نے 6,077,292 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی، جو 16.56 فیصد ووٹ بنتے ہیں۔ سعید جلیلی تیسرے اور محسن رضائی چوتھے نمبر پر آئے۔

وزیرِ داخلہ نجار نے کہا کہ اگر کسی امیدوار کو ان نتائج پر اعتراض ہو تو اس کے پاس شورائے نگہبان میں شکایت درج کروانے کے لیے تین دن کی مہلت ہے۔

ایرانی قانون کے مطابق اگر جیتنے والے امیدوار نے 50 فیصد سے کم ووٹ لیے ہوتے تو پھر ثانوی انتخابات کروائے جاتے۔

جمعے کو ووٹروں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر ووٹنگ کے وقت میں پانچ گھنٹے کی توسیع کی گئی تھی۔

اگرچہ انتخابات میں حصہ لینے والے چھ کے چھ امیدوار قدامت پرست تھے، 64 سالہ حسن روحانی کو اکثر ’معتدل‘ کہا جاتا ہے۔

اس سے قبل وہ کئی وزارتی عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور جوہری پروگرام کی ثالثی کے سربراہ کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

روحانی کی مقبولیت میں اس وقت اضافہ ہوا جب منگل کو صدارتی دوڑ میں شامل واحد اصلاح پسند امیدوار رضا عارف نے اعلان کیا کہ وہ سابق صدر محمد خاتمی کی ہدایت پر دست بردار ہو رہے ہیں۔

حسن روحانی کو دو سابق صدور محمد خاتمی اور ہاشمی رفسنجانی کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ ایران میں اسلامی انقلاب لانے والے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی بھی حسن روحانی کے حامی تھے۔

مشہد سے تعلق رکھنے والے ایک ممکنہ ووٹر مہدی سافٹ ویئر ڈیویلپر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ووٹ نہیں ڈالا کیوں کہ وہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کے خلاف ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا: ’اس کے باوجود میں امید رکھتا ہوں کہ روحانی جیت جائیں کیوں کہ وہ بہترین امیدوار ہیں۔ وہ کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں لا پائیں گے، تاہم وہ کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آ جائے گی۔‘

خیال رہے کہ ایران میں سنہ 2009 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے کیونکہ صدر احمدی نژاد کے مخالفین کے خیال میں انہیں دھاندلی کر کے جتوایا گیا تھا۔

ایرانی اپوزیشن کے مطابق سنہ 2009 کے صدارتی انتخاب کے بعد آنے والے 6 ماہ میں حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اس کے 80 سے زائد حامی ہلاک کر دیے گئے لیکن ایرانی حکومت ان اعدادوشمار کو مسترد کرتی ہے۔

اس صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والے دو اصلاح پسند امیدوار میر حسین موسوی اور سابق سپیکر مہدی کروبی آج بھی نظربند ہیں۔

لیکن سنہ 2009 کے بعد اب ہونے والے انتخاب میں سابق ایرانی صدر رفسجانی کو نا اہل قرار دینے کے بعد ایران میں لبرل تحریک انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔

ایران میں انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لیے غیر ملکی مبصرین موجود نہیں ہیں۔

اسی بارے میں