حسن روحانی کون ہیں؟

Image caption انتخابی مہم کے دوران حسن روحانی لوگوں کی بڑی تعداد کو سڑکوں پرلانے میں کامیاب رہے۔

ایران میں حال ہی میں صدارتی انتخابات ہوئے اور اس میں اصلاح پسندوں کے حمایت یافتہ امیدوار حسن روحانی کو 50.7 فیصد ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی۔

64 سالہ حسن روحانی حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ایران کے نئے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ حالیہ صدارتی انتخابات میں وہ واحد معتدل مذہبی پیشوا تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو اعتدال پسندی کے راستے پر لانا چاہتے ہیں۔ انہیں اصلاح پسند سابق صدر محمد خاتمی کی حمایت حاصل ہے، جب کہ سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے بھی ان کی تائید کی ہے، جو اصلاح پسندوں کے نمائندے ہیں لیکن شورائے نگہباں نے انہیں انتخابی امیدوار کے طور پر نااہل قرار دے دیا تھا۔

انتخابی مہم کے دوران روحانی لوگوں کی بڑی تعداد کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب رہے۔ اس دوران انھوں نے اصلاحات، سیاسی قیدیوں کو آزاد کرنے، شہری حقوق کی ضمانت اور قوم کے تشخص کو بحال کرنے کے وعدے کیے۔

ٹی وی پر مباحثوں میں انھوں نے اُن ممنوع موضوعات کو چھیڑا جن پر عمومی طور پر بات نہیں کی جاتی۔ ان میں عالمی طاقتوں سے جوہری معاملے پر رسہ کشی، تباہ کُن بین الاقوامی پابندیاں، معیشت کی بگڑتی صورتِ حال اور بین الاقوامی برادری سے ایران کی شدید دُوری جیسے موضوعات شامل تھے۔

انھوں نے ایران کے دیرینہ دُشمن ملک امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو 1979 میں تہران میں امریکہ کے سفارت خانے پر قبضے کے بعد منقطع ہوگئے تھے۔

روحانی نے انتخابی مہم کے دوران ایران کی عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ انھوں نے کہا کہ سخت گیر موقف رکھنے والے چاہتے ہیں کہ لوگ ووٹ نہ دیں تاکہ وہ وہ بلا مقابلہ انتخاب جیت جائیں۔ ایران کی سیاست میں حسن روحانی کردار کُلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

انھوں نے مختلف عہدوں پر اپنے فرائض ادا کیے۔ وہ پارلیمان میں ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر فائز رہے اوراس کے علاوہ انھوں نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں رہبرِ انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندے کے طور پر بھی کام کیا۔

سابق صدر خاتمی کے دور حکومت میں حسن روحانی ایران کے چیف جوہری مذاکرات کار تھے۔ اس وقت وہ مرکزِ تحقیقات کی ایک کونسل کے سربراہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جو رہبرِ انقلاب کی صفِ اول کی مشاورتی کونسل ہے۔

1999 میں ایک اصلاح پسند اخبار پر بندش کے خلاف طالب علموں کے مظاہروں کے دوران روحانی نے سخت موقف اپنایا اور اعلان کیا کہ جو افراد ریاستی مشینری کو نقصان پہنچانے کے مُرتکب ہوں گے انھیں موت کی سزا دی جائے گی۔ لیکن 2009 کے انتخابات کے بعد ہونے والے مظاہروں کی انھوں نے بھر پورحمایت کی تھی اور حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پُرامن احتجاج عوام کا حق ہے۔

انھوں نے ملک کے صدر محمود احمدی نژاد پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے غیر ذمہ دارنہ، سوچے سمجھے بغیر دے گیے بیانات ملک کو بہت مہنگے پڑے ہیں۔

روحانی انگریزی جرمن فرانسیسی، روسی اور عربی روانی سے بول لیتے ہیں۔ انھوں نے سکاٹ لینڈ کی گلاسگو کیلی ڈونین یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔