’مظاہروں کو روکنے کے لیے فوج استعمال کی جاسکتی ہے‘

Image caption پولیس نے اتوار کو انقرہ کے کزیلے چوک سے مظاہرین کو نکالنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپیں استعمال کیں

ترکی کے نائب وزیر اعظم نے ایک ٹی وی انٹرویو میں مظاہرین کی متنبہ کیا ہے کہ استنبول اور انقرہ میں جاری مظاہروں کو روکنے کے لیے فوج کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انٹرویو میں نائب وزیر اعظم نے کہا کہ مظارہوں کو روکنے کے لیے پولیس ناکافی ہے اس لیے ترکی کے بڑی شہروں میں فوج کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل ترکی میں ورکرز یونینوں نے حکومت مخالف مظاہرین پر پولیس کی طرف سے تشدد کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے پیر کو ایک روزہ ملک گیر ہڑتال کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب وزیرِاعظم طیب اردوگان پولیس کی کارروائیوں کا دفاع کیا۔

پبلک ورکرز یونینوں کے ای ایس کے اور پروگریسیو ٹریڈ یونینوں ڈی آئی ایس کے مظاہرین کے خلاف پولیس کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کے ای ایس کے اور ڈی آئی ایس کے یونینوں نے جو ملک میں ہزاروں ورکروں کی نمائندگی کرتے ہیں ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ مظاہرین کو گیزی پارک سے بے دخل کرنے کے خلاف پیر کو ملک گیر ہڑتال کریں گے۔

کے ای ایس کے کے ترجمان باقی سینار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ہمارا مطالبہ ہے کہ پولیس کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں کو فوراً بند کیا جائے۔‘

ڈاکٹروں اور انجینیئروں کی تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ بھی اس ہڑتال کی حمایت کریں گے۔

ہڑتال کا اعلان استنبول اور دارالحکومت انقرہ میں جگ جگہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جاری جھڑپوں کے بعد کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق اتوار کو دیر تک تقسیم چوک کے اردگرد استنبول کی گلیوں میں کشیدگی جاری رہی۔

خبر رساں ادارے ڈوگان کے مطابق اتوار کو استنبول میں درجنوں جبکہ انقرہ میں تقریباً 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔

وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے سختی سے حکومتی کارروائی کا دفاع کیا اور استنبول میں اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم سکوائر سے مظاہرین کو نکالنا ان کی ذمہ داری تھی۔

تقسیم چوک میں پولیس کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’میں نے کہہ دیا تھا کہ ہم آخری حد تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ ناقابلِ برداشت تھا۔ کل کارروائی کی گئی جس نے صفائی کر دی۔ یہ بطورِ وزیرِاعظم میرا فرض تھا۔‘

تقسیم سکوائر ترکی میں حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز بن گیا تھا۔

ترک وزیراعظم نے آمر ہونے سے انکار کرتے ہوئے غیرملکی ذرائع ابلاغ پر تنقید کرتے ہوئے عزم کیا کہ وہ گلیوں کو دہشت زدہ کرنے والے عناصر کی ایک ایک کر کے شناخت کریں گے۔

اتوار کو انقرہ اور استنبول میں تازہ شورش اس وقت پھوٹ پڑی جب وزیرِاعظم رجب طیب اردوغان کے حامی بڑی تعداد میں استنبول میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

Image caption تقسیم چوک میں کارروائی کے دوران پولیس نے مظاہرین کو حراست میں لیا

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ یہ 18 روز قبل پارک پر مظاہرین کے قبضے کے بعد سے ہونے والی بدترین شورش تھی۔

پولیس نے حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپیں استعمال کیں اور شہر میں لوگوں کی تلاشی لی اور ان کی شناخت چیک کرتے رہے۔

پولیس نے اتوار کی سہ پہر انقرہ کے کزیلے چوک سے مظاہرین کو نکالنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپیں استعمال کیں۔اس دوران کم از کم چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ترکی میں یہ ہنگامے مئی کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب حکومت نے استنبول میں عوامی گیزی باغ کی جگہ پر ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ شروع کرنا چاہا۔ اس کے بعد حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ بڑھ کر پورے ملک میں پھیل گیا۔

مظاہرین کا اعتراض ہے کہ تین بار وزیرِاعظم منتخب ہونے والے اردوغان نے ان سے نمٹنے میں ضرورت سے زیادہ سختی دکھائی ہے۔

طبی حکام کے مطابق 31 مئی کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک پانچ ہزار افراد زخمی اور چار مارے جا چکے ہیں۔

اردوغان نے گیزی پارک کی تعمیرِنو کو ملتوی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جب کہ عدالتیں اس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے رہی ہیں۔

اسی بارے میں