’طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے‘

Image caption افغان حکومت نے اس اقدام کی وجہ مذاکرات میں ابہام بتائی ہے

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اس وقت تک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہو گی جب تک بات چیت کا یہ عمل ’افغان قیادت‘ میں نہیں ہوتا۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ افغان امن مذاکرات میں انہیں ہمیشہ ’مزاحمت‘ کی توقع ہوتی ہے۔

افغان صدر کی جانب سے امن مذاکرات کے بائیکاٹ کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی امریکہ نے کہا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہے۔ طالبان نے منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفتر کھولا ہے۔

اس سے پہلے بدھ کو افغان صدر حامد کرزئی نے کابل میں امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے معاملے پر معاہدے کے سلسلے میں جاری دو طرفہ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افغان صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق افغان مذاکرات کار اس وقت تک قطر بات چیت سے دور رہیں گے جب تک ’غیر ملکی طاقتیں‘ اس کی اجازت نہیں دیتی کہ یہ عمل افغان عوام چلائیں۔

’جب تک امن مذاکرات کا عمل ’افغانستان کے ہاتھ‘ میں نہیں آتا، اعلیٰ مذاکرات کونسل قطر میں طالبان سے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گی‘۔

صدر اوباما نے جرمنی کے سرکاری دورے کے موقع پر کہا ’مجھے امید ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود یہ عمل آگے بڑھے گا‘۔

’آخر کار ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہو گی کہ افغان ہی افغان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کہ اس طرح سے آگے بڑھا جائے اور تشدد کا خاتمہ کیا جا سکے، تو حقیقت میں وہ اپنے ملک کو تعمیر کر رہے ہیں‘۔

اس سے پہلے افغان حکومت نےامریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے سلسلے میں جاری دو طرفہ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہا تھا کہ افغان حکومت نے اس اقدام کی وجہ مذاکرات میں ابہام بتائی ہے۔

صدر حامد کرزئی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان امن مذاکرات کے حوالے سے امریکی حکومت کے قول و فعل میں تضاد ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ تنازع کی وجہ منگل کو قطر میں کھولے گئے طالبان کے دفتر کے نام کے بارے میں ہے۔

معطل کیے گئے مذاکرات میں افغانستان میں 2014 بین الاقوامی فوجوں کے انخلاء کے بعد امریکی فوجوں کی موجودگی کی نوعیت پر بات کی جا رہی تھی۔

ترجمان نے بتایا ’صدر کرزئی طالبان کے دفتر کے نام کے بارے میں خوش نہیں ہیں۔ ہم اس نام ’امارتِ اسلامی افغانستان‘ کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ایسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا امریکہ اس سلسلے میں صدر کے موقف سے واقف تھا۔

یاد رہے کہ سنہ انیس سو چھیانوے میں جب طالبان نے افغانستان میں حکومت قائم کی تو انھوں نے ملک کا یہی نام رکھا تھا۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکار نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرے گا۔

یہ اعلان اس وقت ہوا جب افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے افغانستان کی سکیورٹی کا کنٹرول افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے۔

یہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آئندہ چند دنوں میں ہونا ہیں جب طالبان اپنا دفتر کھول لیں گے۔

اس سے قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ اعلیٰ امن کمیٹی کے ارکان منگل کو قطر جائیں گے جہاں وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

دوسری جانب دیگر ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان دفتر کھول رہے ہیں۔

اسی بارے میں