جو بھی آئےگا اس سے بات چیت کریں گے:طالبان

Image caption افغان حکومت نے اس اقدام کی وجہ مذاکرات میں ابہام بتائی ہے

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا دفتر تمام افغانوں کے لیے ہیں اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان میں جنگ بندی کا موضوع بھی زیر بحث آئے گا۔

یہ بات دوحہ میں منگل کو قائم کیے گئے طالبان کے دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

’جنگ بندی ان مذاکرات میں ایک موضوع ہو گا۔‘

طالبان ترجمان نے افغانستان کی امن مذاکرات سے متعلق اعلیٰ کونسل سے بھی مذاکرات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ’قطر کا دفتر تمام افغانوں کے لیے ہے۔ جو بھی آئے گا ان سے بات چیت کی جائے گی۔‘

لیکن ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ طالبان کے دفتر سے ابھی تک افغان امن کونسل نے رابطہ نہیں کیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ طالبان نے افغان امن کونسل سے بات چیت کرنے پر تیار ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سے قبل طالبان نے ہمیشہ افغان حکومت سے بات چیت کرنے سے انکار کیا ہے۔

تاہم دوسری جانب افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اس وقت تک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہو گی جب تک بات چیت کا یہ عمل ’افغان قیادت‘ میں نہیں ہوتا۔

افغان صدر کی جانب سے امن مذاکرات کے بائیکاٹ کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی امریکہ نے کہا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہے۔ طالبان نے منگل کو قطر کے دارلحکومت دوحہ میں دفتر کھولا ہے۔

ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا ’امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ہم اپنے منصوبے ان کے سامنے رکھیں گے اور امریکہ اپنے منصوبے رکھے گا۔ ہم اپنے منصوبے شیئر کریں گے۔‘

یاد رہے کہ پچھلے سال مارچ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اس وقت ختم ہوئے جب طالبان نے الزام عائد کیا کہ امریکہ بغیر کسی منصوبے کے بات چحت کے لیے آیا تھا۔

طالبان نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ایک امریکی فوجی کے بدلے میں گوانتنامو بے سے پانچ طالبان کو رہا کرنے ا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں پورا نہیں کیا۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ افغان امن مذاکرات میں انہیں ہمیشہ ’مزاحمت‘ کی توقع ہوتی ہے۔

اس سے پہلے بدھ کو افغان صدر حامد کرزئی نے کابل میں امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے معاملے پر معاہدے کے سلسلے میں جاری دو طرفہ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افغان صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق افغان مذاکرات کار اس وقت تک قطر بات چیت سے دور رہیں گے جب تک ’غیر ملکی طاقتیں‘ اس کی اجازت نہیں دیتی کہ یہ عمل افغان عوام چلائیں۔

’جب تک امن مذاکرات کا عمل ’افغانستان کے ہاتھ‘ میں نہیں آتا، اعلیٰ مذاکرات کونسل قطر میں طالبان سے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گی‘۔

صدر اوباما نے جرمنی کے سرکاری دورے کے موقع پر کہا ’مجھے امید ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود یہ عمل آگے بڑھے گا‘۔

’آخر کار ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہو گی کہ افغان ہی افغان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کہ اس طرح سے آگے بڑھا جائے اور تشدد کا خاتمہ کیا جا سکے، تو حقیقت میں وہ اپنے ملک کو تعمیر کر رہے ہیں‘۔

اس سے پہلے افغان حکومت نےامریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے سلسلے میں جاری دو طرفہ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہافغان حکومت نے اس اقدام کی وجہ مذاکرات میں ابہام بتائی ہے۔

صدر حامد کرزئی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان امن مذاکرات کے حوالے سے امریکی حکومت کے قول و فعل میں تضاد ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ تنازع کی وجہ منگل کو قطر میں کھولے گئے طالبان کے دفتر کے نام کے بارے میں ہے۔

معطل کیے گئے مذاکرات میں افغانستان میں 2014 بین الاقوامی فوجوں کے انخلاء کے بعد امریکی فوجوں کی موجودگی کی نوعیت پر بات کی جا رہی تھی۔

ترجمان نے بتایا ’صدر کرزئی طالبان کے دفتر کے نام کے بارے میں خوش نہیں ہیں۔ ہم اس نام ’امارتِ اسلامی افغانستان‘ کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ایسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا امریکہ اس سلسلے میں صدر کے موقف سے واقف تھا۔

یاد رہے کہ سنہ انیس سو چھیانوے میں جب طالبان نے افغانستان میں حکومت قائم کی تو انھوں نے ملک کا یہی نام رکھا تھا۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکار نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرے گا۔

یہ اعلان اس وقت ہوا جب افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے افغانستان کی سکیورٹی کا کنٹرول افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے۔

یہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آئندہ چند دنوں میں ہونا ہیں جب طالبان اپنا دفتر کھول لیں گے۔

اس سے قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ اعلیٰ امن کمیٹی کے ارکان منگل کو قطر جائیں گے جہاں وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

دوسری جانب دیگر ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان دفتر کھول رہے ہیں۔

اسی بارے میں