برازیل میکسیکو فٹ بال میچ میں پرتشدد مظاہرے

Image caption برازیل میں مظاہرے کرایوں میں اضافے کے بعد شروع ہوئے

برازیل میں جاری تشدد کے سلسلے میں فورتالیزا شہر میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں فائر کیں اور آنسو گیس استعمال کی۔

میکسیکو کے ساتھ کنفڈریشن کپ کے اس میچ سے قبل کم از کم 30 ہزار افراد نے اس شمال مشرقی شہر میں جلوس نکالا۔

برازیل میں شورش ساؤپالو شہر میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے باعث شروع ہوئی اور بعد میں ملک بھر میں پھیل گئی اور اس کے دائرے میں عوامی خدمات اور بدعنوانی بھی آ گئے۔

ریو اور ساؤپالو کے حکام نے کہا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لے لیا جائے گا، جب کہ دوسرے کئی شہروں میں مظاہروں کے پیشِ نظر بس کے کرایوں میں کمی کی گئی ہے۔

گذشتہ چند دنوں میں برازیل میں مختلف شہروں میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا ہے۔

بدھ کے روز ریو اور ساؤ پالو کے حکام نے اپنے ابتدائی فیصلے میں تبدیلی کا اعلان کیا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو مظاہرین کی بڑی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

ساؤپالو ریاست کے گورنر ہیرالدو الکمن اور شہر کے میئر فرناندو ہداد نے کہا کہ یہ قدم پرامن مظاہرہ کاروں سے مکالمہ شروع کرنے کی خاطر کیا گیا ہے۔ کل ریو اور ساؤپالو میں بڑے پیمانے پر مظاہرے متوقع ہیں۔

فورتالیزا میں مظاہرین نے سٹیڈیم جانے والی مرکزی سڑک پر مارچ شروع کیا۔ جب پولیس نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔ بعض مظاہرین نے پتھر پھینکے جب کہ پولیس نے ربر کی گولیوں اور آنسو گیس سے جواب دیا۔

پولیس کے مطابق کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سٹیڈیم تک رسائی آدھے گھنٹے تک رکی رہی، تاہم پولیس نے بعد میں لوگوں کو میچ شروع ہونے سے قبل سٹیڈیم جانے دیا۔ البتہ میچ کے دوران کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی۔

فورتالیزا میں بی بی سی کے نامہ نگار بین سمتھ کہتے ہیں کہ مظاہرے کے دوران بعض لوگوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’ایک استاد نیمار سے زیادہ قیمتی ہے۔‘ نیمار برازیل کا فٹ بال سٹار ہے جو میکسیکو کے خلاف میچ کھیلا اور ایک گول بھی کیا۔

اسی بارے میں