سنکیانگ میں گیارہ افراد کو جیل بھیج دیا گیا

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے ملک کے مغربی صوبے سنکیانگ میں 11 افراد کو جرائم، نسل اور مذہبی منافرت کی بِنا پر جیل بھیج دیا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک میں ایک شخص کو انٹرنیٹ کے ذریعے جہاد کی ترغیب دینے پر چھ سال کی سزا سنائی دی گئی۔

سنکیانگ میں آٹھ دیگر افراد کو ٹیلی ویژن تباہ کرنے پر دو سے پانچ برس کی سزا سنائی گئی۔

ان افراد کی شناخت نہیں بتائی گئی تاہم ان کے نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا تعلق مسلم گروہ اوغر سے ہے۔

چین کی وزارتِ انصاف کے سرکاری اخبار روزنامہ ’لیگل‘ کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں سنکیانگ کے صوبائی دارالحکومت ارومچی میں سنہ 2009 میں ہونے والے فسادات کا چوتھا برس مکمل ہونے سے چند دن قبل سنائی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ چین کے مغربی صوبے میں پانچ جولائی سنہ 2009 کو فسادات ہوئے تھے جن میں کم از کم 200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت ہن قوم کی تھی۔

سینکیانگ میں مسلم آبادی اقلیت میں ہے اور یہاں پر شدید نسلی فسادات بھی ہو چکے ہیں۔

چین اور اوغر آبادی، طویل اختلافات کی تاریخ

چین کے مغربی صوبے سنکیانگ مسلم آبادی اقلیت میں ہے اور یہاں حالیہ برسوں کے دوران فسادات ہوتے رہے ہیں۔

حکام کے مطابق سنکیانگ رواں برس اپریل میں ہونے والے فسادات کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب امدادی کارکنوں نے اسلحہ ڈھونڈنے کے لیے ایک عمارت کی تلاشی لی تھی۔

اسی بارے میں