طالبان کے جھنڈے پر تنازع، امن مذاکرات متاثر

Image caption قطر میں طالبان کا دفتر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب صرف جنگجو گروہ ہی نہیں بلکہ ان کی سیاسی حیثیت بھی ہے

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے دفتر پر جھنڈے کے تنازعے کے باعث افغان امن مذاکرات کے لیے کی جانے والی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو رہی ہے۔

دوحہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ قطری حکام کے کہنے پر طالبان نے جھنڈا اُتار دیا۔ تاہم کچھ دیر بعد ایک چھوٹے پول پر دوبارہ جھنڈا لگا دیا۔

کابل نے امن مذاکرات شروع کرنے کے طریقہ کار پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ کافی عرصے سے طالبان سے بات چیت کا آغاز کرنا چاہتا تھا۔ لیکن کابل کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے امریکہ نے طے شدہ اصولوں کی پاسداری نہیں کی ہے۔

افغانستان کے وزیر خارجہ نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس کا یہ اقدام بدنیتی پر مبنی ہے۔

افغان وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’جس انداز میں دفتر کھولا گیا ہے یہ ہمارے اور امریکی حکام کے مابین طے شدہ معاہدے کی شرائط اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے‘۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو بدھ کو بتایا تھا کہ طالبان کا جھنڈا اور دفتر کا نام تبدیل کر دیا جائے گا۔ لیکن افغان حکام نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

Image caption صدر کرزئی نے افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد امریکی افواج کی موجودگی کے معاملے پر دونوں ملکوں کے مابین سیکورٹی معاہدے پر ہونے والی بات چیت بھی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے

افغان حکام کا کہنا ہے کہ قطر میں طالبان کے دفتر سے جھنڈا اتارنے اور نام کی تختی ہٹانا کافی نہیں ہے۔

افغان امن کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دفتر صرف امن مذاکرات کے لیے ہے اور وہ طالبان کی بیانات سے ناخوش ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا دفتر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب صرف جنگجوگروہ ہی نہیں ہیں بلکہ ان کی سیاسی حیثیت بھی ہے۔

قطر میں بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا ہے کہ طالبان عوام میں جائز حیثیت کے متلاشی ہیں اور وہ اپنے دفتر کے آغاز کو ایک بڑی کامیابی تصور کر رہے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب افغان حکومت کا خیال ہے کہ ان امن مذاکرات میں انھیں نمایاں حیثیت نہیں مل رہی ہے۔

بدھ کو افغان صدر حامد کرزئی نے مذاکرات سے اُس وقت تک بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جب تک ’غیر ملکی طاقتیں‘ اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ یہ عمل افغان عوام چلائیں۔

صدر کرزئی نے سنہ 2014 میں افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد امریکی افواج کی موجودگی کے معاملے پر دونوں ملکوں کے مابین سیکورٹی معاہدے پر ہونے والی بات چیت بھی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا کہ ’افغان حکومت کبھی بھی افغانستان میں قیام امن کے اقدامات کو مذموم مقاصد کے حامل افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دے گی۔ جو وہ (مقاصد) افغانستان کی جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر امریکہ طالبان کے دوحہ میں موجود دفترکی تحریر شدہ یقین دہانی کے مطابق کام کرنے کی ضمانت دے تو ہم امریکہ سے دوبارہ مذاکرات شروع کر سکتے ہیں‘۔

دوحہ میں طالبان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ شدت پسند گوانتاناموبے جیل میں قید طالبان کے پانچ سنئیر اراکین کی رہائی کے جواب میں اغوا کیے گئے امریکی فوجی کو رہا کرنے پر تیار ہیں۔

امریکی فوجی کو طالبان نے 2009 میں اغوا کیا تھا۔

امریکہ نےقطر میں سنہ 2011 میں طالبان سے خفیہ ملاقات کی تھی۔لیکن چند دن قبل امریکہ اور طالبان کےنمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔ بات چیت کے اس عمل میں افغان حکام کا کردار ابھی تک غیر واضح ہے۔

.قطر میں طالبان کا دفتر بھی اسی دن کھولا جس دن نیٹو افواج نے افغانستان کی سکیورٹی ذمہ داری افغان حکومت کے سپرد کی ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء سنہ 2014 میں ہو گا لیکن امریکی افواج میں شامل کئی ہزار فوجی دوطرفہ سکیورٹی معاہدے کے تحت 2014 کے بعد میں افغانستان میں قیام کریں گے۔

اس سیکورٹی معاہدے پر امریکہ اور افغانستان پر ابھی مزید بات چیت ہو گی۔

اسی بارے میں