شاگرد سے جنسی تعلق، استاد جیل روانہ

جریمی فورسٹ
Image caption جریمی فورسٹ نے اس حد کو عبور کیا جو استاد اور شاگرد کے مابین ہوتی ہے: عدالت

برطانیہ کی ایک عدالت نے تیس سالہ استاد کو اپنی پندرہ سالہ طالبہ کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے اور اسے اغوا کرنے کے جرم میں ساڑھے پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے۔

لندن سے تعلق رکھنے والے جریمی فورسٹ نے عدالت میں ایسٹبورن سکول میں اپنی پندرہ سالہ طالبعلم کے ساتھ جنسی روابط قائم کرنے کا اعتراف کیا۔

لندن کی کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ جرمی فورسٹ اپنی طالبہ کی محبت میں گرفتار ہو گئے تھے اور انہوں نے اس حد کو عبور کیا جو استاد اور شاگرد کے درمیان ہوتی ہے۔

اب سسیکس پولیس اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ کیا گرفتاری کے بعد جریمی فورسٹ نے اپنے حق میں گواہی دلانے کے لیے طالبہ سے رابطے کیے تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ طالبہ نے فرانس میں گرفتاری کے بعد پولیس کو جو اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا وہ اس بیان سے مختلف ہے جو اس نے عدالت کے سامنے دیا۔

جج مائیکل لاسن کے مطابق طالبہ نے اپنے استاد جریمی فورسٹ کے قانونی دفاع کو مضبوط کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ اسے خودکشی کرنے سے باز رکھنے کے لیے فرانس کی سیر کرانے لے گیا تھا۔

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ جریمی فورسٹ نے استاد اور شاگرد کے مابین رشتے کو پامال کیا، اپنے ساتھی استاتذہ کو گمراہ کیا، اپنے اور لڑکی کے خاندان کو پریشان کیا اور اپنے پیشے کی شہرت کو نقصان پہنچایا۔

جج نے اپنے فیصلےمیں کہا کہ جریمی فورسٹ نے اپنی شاگرد کی فریفتگی کی حوصلہ افزائی کی اور تعلقات کو اس جانب لے کرگئے جہاں نہیں جانا چاہیے تھے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ جریمی فورسٹ کو ساری زندگی کسی ایسے پیشے سے منسلک ہونے کے نا اہل ہوں گے جہاں ان کا رابطہ بچوں سے پڑے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ جریمی فارسٹ نے اپنی شاگرد کے ساتھ کار، ہوٹل اور اپنے گھر میں جنسی فعل کیا۔

جب جریمی فارسٹ اور ان کی شاگرد کے تعلقات کا راز کھلنے لگا تو وہ تیس ستمبر کو اپنی شاگرد کو لے کر فرانس چلا گیا۔ سات روز کی تلاشی کے بعد فرانس پولیس نے دونوں کو اکھٹے حراست میں لے کر انہیں برطانوی پولیس کے حوالے کر دیا۔

جریمی فارسٹ کی ماں نے عدالتی فیصلے کے بعد کہا کہ ان کا بیٹا اپنے کیے پر پشیمان ہے لیکن انہوں نے کہا کہ اس بات کی تحقیق ہونی چاہیے جب ان کے تعلقات پروان چڑھ رہے تھے تو نظام حرکت میں نہیں آیا۔