کینیڈا: سیلاب میں تین ہلاک، ہزاروں بے گھر

Image caption طوفانی بارش سے کینیڈا کی مغربی ریاست البرٹا کا شہر کیلگری بری طرح متاثر ہوا ہے

کینیڈا میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں آئے سیلاب سے کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ سیلاب ایک ہفتے سے جاری طوفانی بارش کا نتیجہ ہے جس نے کینیڈا کے مغربی ساحل کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔

حکام نے ریاست البرٹا کے شہر کیلگری کو خالی کر دینے کا حکم جاری کیا ہے کیونکہ وہاں سے گزرنے والے دونوں دریا، بو اور ایلبو، دونوں میں سیلاب کی طغیانی ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم سٹیفن ہارپر نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جمعے کو دورہ کیا اور انھوں نے دونوں شہروں کو وفاقی امداد کی یقین دہانی کرائی۔

رائل کینیڈیئن مونٹیڈ پولیس کی سارجنٹ پیٹریسیا نیلی نے تین افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جن میں سے دو لوگوں کی لاش کو برآمد کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دو لاشیں مردوں کی ہیں جنہیں جمعرات کو کیلگری سے 64 کلومیٹر جنوب میں ہائی وڈ ندی کے پاس سے برآمد کیا گیا ہے۔

Image caption کیلگری کے نصف سے زیادہ مکانات میں سیلاب کا پانی گھس آيا ہے اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

کیلگری کے ایک رہائشی ہارپر نے کہا ’اس کی تندی اس قدر ہے کہ میرے خیال میں ہم میں سے کسی نے بھی اس طرح کا سیلاب کبھی اس سے قبل دیکھا نہیں ہو۔‘

البرٹا کے پریمیئر ایلیسن ریڈفورڈ نے رہائشیوں کو مزید سیلاب کے بارے میں خبردار کیا۔

مزید جنوب کے علاقوں کو پوری طرح سے خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ ہائی ریور کے علاقے میں نصف سے زیادہ مکانات میں پانی گھس آیا ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق مرکزی کیلگری میں دو لاکھ 30 ہزار افراد رہائش پزیر یا کام کے لیے آتے ہیں لیکن حکام کے مطابق کسی کو بھی وہاں سے جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جمعہ کو بہت سے لوگ کام پر نہیں آئے۔

کیلگری جو کہ دس لاکھ آبادی پر مشتمل شہر ہے۔ اس کے 25 نواحی علاقوں کو خالی کرایا گیا ہے جہاں سے تقریباً 75 ہزار لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔

وزارت دفاع کے دفتر سے کہا گیا ہے کہ کیلگری کے علاقے میں امدادی کارروائی جاری ہے اور فوجی ہیلی کاپٹروں سے کم از کم 30 افراد کو ان کی چھتوں سے بچایا گیا ہے اور تقریباً 350 فوجیوں کو سیلاب زدہ علاقوں کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔

کیلگری کے میئر ناہید ننشی نے کہا ہے کہ موسلادھار بارش کے نتیجے میں 1500 افراد کو ہنگامی شیلٹروں میں پہنچایا گیا جبکہ باقی افراد اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

اپنے ایک رشتے دار کے یہاں پناہ گزین ڈینيئل کلگیلن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شہر تھم سا گیا ہے اور اس نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ اس طرح کا سیلاب یہاں اس سے قبل کسی نے نہیں دیکھا ہوگا۔‘

میئر ننشی نے کہا کہ اگرچہ ایلبو دریا میں پانی کم ہوا ہے لیکن شہر ابھی بھی خطرے سے باہر نہیں۔

اسی بارے میں