’مذاکرات ہوں گے یا نہیں فیصلہ طالبان کے ہاتھ میں‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے متنبہ کی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات نہ ہوں۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے دفتر پر جھنڈے کے تنازعے کے باعث افغان امن مذاکرات کے لیے کی جانے والی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔

جان کیری نے دوحہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کو نہیں معلوم کہ آیا مذاکرات ہوں گے بھی یا نہیں۔

جان کیری دوحہ میں شام کے بحران پر اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں۔

تاہم امریکہ کے پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی جیمز ڈوبن سنیچر کو دوحہ پہنچے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جیمز دوحہ میں جان کیری اور قطر کے حکام سے بات چیت کریں گے۔

جان کیری نے کہا ’ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم دوبارہ صحیح سمت میں بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔ ہم طالبان کا اس حوالے سے ردِعمل دیکھنا چاہتے ہیں۔

جان کیری نے کہا کہ اگر طالبان جلد یہ صحیح سمت بڑھنے کا فیصلہ نہیں کرتے تو دوحہ میں طالبان کے دفتر کو بند کرنا ہو گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جان کیری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم نے اپنا کردار نیک نیتی سے پورا کیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ معاہدے کا پاس نہیں کیا گیا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جان کیری نے کہا ’ہمیں معلوم ہے کہ کچھ بھی آسانی سے حاصل نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آگے کا راستہ مشکل ہو گا اگر کوئی راستہ ہے۔ اس بات کا فیصلہ طالبان نے کرنا ہے۔‘

یاد رہے کہ دوحہ میں طالبان کے دفتر پر جھنڈے کے تنازعے کے باعث افغان امن مذاکرات کے لیے کی جانے والی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو رہی ہے۔

دوحہ میں قطری حکام کے کہنے پر طالبان نے جھنڈا اُتار دیا۔ تاہم کچھ دیر بعد ایک چھوٹے پول پر دوبارہ جھنڈا لگا دیا گیا۔

کابل نے امن مذاکرات شروع کرنے کے طریقہ کار پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ کافی عرصے سے طالبان سے بات چیت کا آغاز کرنا چاہتا تھا۔ لیکن کابل کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے امریکہ نے طے شدہ اصولوں کی پاسداری نہیں کی ہے۔

افغانستان کے وزیر خارجہ نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس کا یہ اقدام بدنیتی پر مبنی ہے۔

افغان وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’جس انداز میں دفتر کھولا گیا ہے یہ ہمارے اور امریکی حکام کے مابین طے شدہ معاہدے کی شرائط اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے‘۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو بدھ کو بتایا تھا کہ طالبان کا جھنڈا اور دفتر کا نام تبدیل کر دیا جائے گا۔ لیکن افغان حکام نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں