’مینڈیلا کی ایمبولینس خراب ہوگئی تھی‘

جنوبی افریقہ کے صدارتی ترجمان نے کہا ہے کہ دو ہفتے قبل نیلسن مینڈیلا کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینس راستے میں خراب ہو گئی تھی۔

میک مہاراج نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایمبولینس کے انجن میں خرابی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کو ایک دوسری ایمبولینس میں منتقل کر کے ہسپتال پہنچایا گیا۔

تاہم مہاراج کا کہنا ہے کہ مینڈیلا کی جان کو کوئی خطرہ نہیں تھا کیونکہ ان کے ہمراہ نرسوں کی ایک ٹیم موجود تھی۔

امریکی نیٹ ورک سی بی ایس نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ نیلسن مینڈیلا کو چالیس منٹ تک دوسری ایمبولینس کا انتظار کرنا پڑا۔

سی بی ایس کے مطابق انتہائی سرد موسم میں مینڈیلا کو دوسری ایمبولینس میں منتقل کیا گیا۔

جنوبی افریقہ کے سابق صدر کو آٹھ جون کی رات کو جوہانسبرگ سے پریٹوریہ کے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا۔

مینڈیلاکی عمر94 برس ہے اور وہ خاصے عرصے سے علیل ہیں۔ ہفتے کی رات کو ان کی حالت بگڑ گئی اور انھیں پریٹوریا کے ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔

گذشتہ دو برسوں میں مینڈیلا پانچ بار ہسپتال جا چکے ہیں۔ اپریل میں انھیں نمونیا کی وجہ سے دس دن ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔

مہاراج نے مقامی ٹی سٹیشن کو ایک انٹرویو میں ایمبولینس خراب ہونے کی تصدیق کی۔

جوہانسبرگ میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولرج کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے لیے فوجی ایمبولینس خراب ہونے کی وجہ سے حکومت کو نہایت شرمندگی کا سامنا ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سخت سردی میں دوسری ایمبولینس میں منتقل کرنے سے نیلسن کی طبیعت پر کیا اثر پڑا ہے اس پر خوب بحث کی جائے گی۔

اسی بارے میں