افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات قطر ہی میں کیوں؟

Image caption قطر میں موجود طالبان صرف افغان طالبان کی نمائندگی کرتے ہیں

افغانستان میں بارہ سال سے جاری خوں ریزی اور طویل انتظار کے بعد اب طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔

لیکن یہ مذاکرات خلیجی ریاست قطر میں کیوں ہو رہے ہیں؟ اس کا جائزہ قطر میں بی بی ورلڈ سروس کے داؤد اعظمی نے لیا ہے۔

تین سال پہلے طالبان کے نمائندے مغربی ممالک کے نمائندوں سے بات چیت کے لیے خفیہ طور پر قطر پہنچے تھے۔

انھیں معلوم تھا کہ نیٹو بالخصوص امریکہ افغانستان سے باعزت واپسی اور اپنے جانے کے بعد ایک مستحکم اور پُرامید افغانستان کے لیے امن معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

گزشتہ سال مارچ میں طالبان نے امریکہ سے قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات منقطع کر دیے۔ وہ امریکی فوجی بوئی برگدہال کی رہائی کے بدلے امریکی جیل گونتاناموبے میں قید پانچ طالبان قیدیوں کی رہائی چاہتے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان نے امریکی فوجی کو سنہ 2009 میں اغوا کیا تھا۔

قطر میں طالبان نمائندوں کی تعداد اور سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا اور اب طالبان کے تقریباً بیس سے زائد بڑے رہنما اپنے خاندانوں سمیت قطر منتقل ہو گئے ہیں۔

گزشتہ دو برسوں سے طالبان نے قطر میں مقیم اپنے نمائندوں کو افغانستان کے حوالے سے جاپان، فرانس اور جرمنی میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں بھیجا ہے۔ انھوں نے حال ہی میں ایک وفد ایران بھی بھیجا تھا۔

قطر میں موجود طالبان صرف افغان طالبان کی نمائندگی کرتے ہیں جو افغانستان میں برسرِپیکار ہیں اور ملا عمر ان کے سربراہ ہیں۔ قطر میں پاکستانی طالبان کا کوئی نمائندہ نہیں ہے۔

اچانک ملاقات

کہا جاتا ہے کہ طالبان کے نمائندے پاکستان کے راستے قطر آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں طالبان کے بعض نمائندے قطر اور پاکستان کے درمیان سفر بھی کرتے رہے ہیں۔

دوحہ میں طالبان اپنی سرگرمیوں اور حلیے کے بارے میں احتیاط برتتے ہیں لیکن یہ کوئی بڑا شہر نہیں ہے اور یہاں تقریباً چھ ہزار افغان مزدور اور تاجر رہتے ہیں۔ بعض افغان باشندوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے طالبان نمائندوں کو دوحہ میں ڈرائیونگ کرتے، گلیوں میں پیدل چلتے، شاپنگ سینٹرز یا مساجد میں دیکھا ہے۔

ایک افغان سفارت کار نے مجھے ان کی دوحہ کے ایک شاپنگ سینٹر میں طالبان کے نمائندے سے اچانک ملاقات کی کہانی سنائی۔

انھوں نے کہا کہ ’جب میں نے کچھ بچوں کو پشتو میں بات کرتے سنا تو میں ان کی طرف گیا۔‘

’میں نے بچوں کے ساتھ آدمی کو پہچان لیا لیکن جب انھوں نے اپنے بارے میں معلومات دینے سے گریز کیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ دوسرے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں؟ ان کا رنگ اْڑ گیا اور وہ وہاں سے چلے گئے‘۔

سفارت کار نے بتایا کہ دوسرے افغانیوں کی طرح طالبان کے بعض نمائندے بچوں کی پیدائش کے اندراج یا دستاویزات کی تجدید کے لیے سفارت خانے کا چکر لگاتے ہیں۔

افغان تاجر درویش زدران نے طالبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ دوحہ میں آرامدے گھروں میں رہ رہے ہیں جس کا خرچہ قطری ادا کرتے ہیں جو عموماً اچھے لوگ ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’طالبان کے ایک رکن نے مجھے ایک دفعہ بتایا کہ انھوں نے تیس سال تک جنگ و جدل دیکھی لیکن اب وہ ایک پُرامن ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔‘

برسوں تک افغان حکومت اور اس کے مغربی اتحادی طالبان سے رابطے قائم کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے پاس طالبان کا کوئی پتہ نہیں تھا۔

امریکہ اور افغان امن کونسل کی بڑی ترجیح طالبان کو ایک مستقل جگہ دینا بن گئی تاکہ طالبان کے ساتھ اعتماد قائم ہو اور مذاکرات میں شرکت کرنے والے طالبان رہنماؤں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

افغان امن کونسل 2010 میں کابل میں ایک جرگے کے بعد قائم کی گئی۔ امن کونسل کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ طالبان کے ساتھ رابطہ قائم کر کے انھیں قیامِ امن کے عمل میں شرکت پر رضامند کرے۔

افغان حکومت چاہتی تھی کہ طالبان کے لیے ترکی یا سعودی عرب میں دفتر کھولے کیونکہ ان کے خیال میں یہ ممالک زیادہ اثرو رسوخ رکھتے تھے اور اِن کے کابل کے ساتھ تعلقات بھی اچھے ہیں۔

خوشگوار تعلقات

دوسری طرف طالبان نے دفتر کے لیے قطر کو ترجیح دی کیونکہ ان کے خیال میں قطر ایک غیر جانبدار ملک تھا جن کے سب کے ساتھ تعلقات متوازن ہیں۔ قطر کو اسلامی دنیا میں ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے اور امریکہ بھی اس پر خوش تھا۔

افغان حکام کے مطابق صدر حامد کرزئی نے قطر میں طالبان کے لیے دفتر کھولنے کی اجازت اس شرط پر دی کہ یہ دفتر زیادہ منظرِعام پر نہیں آئے گا اور اسے صرف امن مذاکرات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

صدر حامد کرزئی یہ نہیں چاہتے ہیں کہ طالبان اس دفتر کو باقی دنیا سے روابط بڑھانے، لوگوں کو بھرتی کرنے یا چندہ جمع کرنے کے لیے استعمال کریں۔

مذاکرات قطر میں کرنے کے لیے تمام فریقین کے پاس اپنی اپنی وجوہات تھیں۔

  • امریکہ کسی سمجھوتے کے تحت طالبان کی قید میں اپنے فوجی بوئی برگدہال کی رہائی چاہتا ہے۔
  • طالبان گونتاناموبے میں قائم امریکی جیل میں قید سے اپنی ساتھیوں کی رہائی، پاکستان پر کم انحصار اور بین الاقوامی برادری میں اپنے وقار کو بڑھانا چاہتے ہیں۔
  • افغان حکومت طالبان اور پاکستان کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ طالبان پاکستان کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے خطرے کے بغیر بات چیت میں شریک ہوں۔
  • پاکستانی حکومت یہ دکھانا چاہتی ہے کہ طالبان ان کے کنٹرول میں نہیں اور طالبان پاکستان میں نہیں بلکہ قطر میں ہیں۔
  • قطر کی حکومت اصرار کرتی ہے کہ وہ مدد کرنا چاہتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک لمبے عرصے تک چلنے والی کشیدگی میں کلیدی مذاکرات کار کے طور پر ظاہر کرنا چاہتی ہے۔
Image caption قطر بین الاقوامی برادری کی نظروں میں میں آ تو گیا ہے لیکن امن مذاکرات کے اس نئے مسکن کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ایک بڑا چیلنج ہے

واضح رہے کہ قطر ان تین ممالک میں شامل نہیں تھا جنھوں نے افغانستان میں طالبان کی 1996-2001 تک قائم حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ طالبان حکومت کو پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا تھا۔

لیکن طالبان کی سابقہ حکومت میں دفترِ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ قطر کے اُن کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔

جب طالبان کی حکومت گر گئی تو ان کے رہنماوں کے پاس پناہ لینے کے لیے جگہ نہیں تھی۔طالبان کے بعض سینئیر رہنماؤں نے قطر میں سیاسی پناہ لینے کی درخواست کی تھی لیکن کئی وجوہات کی بنا پر ان کے درخواستوں کو خاموشی سے مسترد یا نظر انداز کر دیا گیا۔

ان جوہات میں یہ بھی شامل ہے کہ سیاسی پناہ لینے والے طالبان کے نام یا تو امریکہ یا پھر قوامِ متحدہ کی طرف سے پابندی والی فہرست میں شامل تھے یا وہ امریکہ کو مطلوب تھے۔

تاہم طالبان کے چھوٹے سطح کے رہنما قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک میں عام افغان مزدور اور تاجر کی حیثیت سے جانے میں کامیاب رہے۔

اب قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے سے یہ ملک اپنی خواہش کے مطابق بین الاقوامی برادری کی نظروں میں آ تو گیا ہے لیکن امن مذاکرات کے اس نئے مسکن کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

اسی بارے میں