دھوئیں کے سبب ملیشیا میں ہنگامی حالات کا اعلان

Image caption دارالحکومت کوالالمپور کی ممتاز عمارت پٹروناز ٹاورز کے گرد دھوئیں کے بادل ہیں

ملیشیا نے اپنے دو جنوبی اضلاع میں ہنگامی حالات کا اعلان کیا ہے کیونکہ انڈونیشیا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ سے فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ موئر اور لیڈانگ کے ساحلی شہروں کو بند کر دیا گیا ہے اور وہاں کے مکینوں کو گھر کے اندر ہی رہنے کی صلاح دی گئی ہے۔

خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ ملیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہوا کی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور دارالحکومت کی ممتاز عمارت پٹروناز ٹاورز کے گرد دھوئیں کے بادل ہیں۔

ملیشیا کے ماحولیات کے وزیر انڈونیشیا کے اپنے ہم منصب سے بدھ کو ملاقات کریں گے اور اس مسئلے پر بات کریں گے۔

کوالالمپور میں بی بی سی کی نمائندہ جنیفر پاک کا کہنا ہے کہ دھویں کے بادل ملیشیا میں ہر سال مسائل پیدا کرتے ہیں لیکن گزشتہ آٹھ برسوں میں یہ پہلا موقعہ ہے جب ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا گیا ہے۔

ہماری نمائندہ کا کہنا ہے کہ لوگ اس بات پر ناراض ہیں کہ حکومت اس مسئلے سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات کا صد باب کرنے میں ناکام رہی ہے۔

حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آلودگی کی شرح (پی ایس آئی) پر آلودگی کی سطح دونوں اضلاع میں 700 کی سطح پار کر چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 300 سے زیادہ کی شرح اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہوا میں آلودگی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔

Image caption دھوئیں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مقامی لوگوں میں ماسک تقسیم کیا جارہا ہے

ان علاقوں میں سکولوں اور کالجوں کو بند کیے جانے کا حکم جاری کیا گیا ہے اور مقامی حکام نے وہاں کے رہائشیوں میں آلودگی سے تحفظ کے لیے ماسک تقسیم کیے ہیں۔

دارالحکومت کوالالمپور میں اب تک دھویں کی سطح معتدل تھی مگر اب وہاں بھی دور تک دیکھنا زیادہ دشوار ہے اور ہوا میں دھوئیں کی بو پھیلی ہوئی ہے۔

دھوئیں کے یہ بادل پورے سنگاپور میں پھیلے ہوئے ہیں اور آلودگی اپنی ریکارڈ سطح پر ہے۔

اس دھوئیں کی وجہ انڈونیشیا کی ریؤ ریاست کے جنگل میں لگی آگ ہے اور اس کا الزام غیر قانونی طور پر دارالحکومت پیکان بارو میں جنگل صاف کرنے پر عائد کیا جارہا ہے۔

ملیشیا اور سنگاپور میں تاڑ کا تیل تیار کرنے والی کمپنیوں پر کاشتکاری کے لیے زمین صاف کرنے کے دوران درختوں کے کاٹنے اور جلانے کے عمل کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔

ماحولیاتی گروپ گرین پیس انٹرنیشنل نے کہا ہے ’11 تا 21 جون کے دوران ناسا سے حاصل کردہ تصاویر کے مطابق تاڑ کا تیل نکالنے والے علاقوں میں سینکڑوں آگ کے ہاٹ سپاٹ دیکھے گئے ہیں۔‘

بہرحال سماٹرا میں آگ پر قابو پانے کی کوشش جاری ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے آئندہ ہفتے برونائی میں ہونے والے اجلاس میں یہ مسئلہ نمایاں رہے گا۔

یاد رہے کہ 1997 اور 1998 کے دوران جنوب مشرقی ایشیا میں اسی طرح دھوئیں کے بادل چھائے تھے جس سے انڈونیشیا، ملیشیا، سنگاپور، برونائي اور جنوبی فلپائن متاثر ہوئے تھے جس میں نو اعشاریہ تین ارب امریکی ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔ اس سے سیاحوں میں زبردست کمی آئی تھی اور دو کروڑ افراد بیمار پڑے تھے۔

اسی بارے میں