اسرائیلی جنگی طیاروں کی غزہ کی پٹی میں کارروائی

Image caption اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق میزائل دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ نے دو راکٹ ناکارہ کر دیے

اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں چند مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے پہلے اتوار کی شب غزہ سے جنوبی اسرائیل میں راکٹ داغے گئے تھے۔

شمالی غزہ سے کم از کم چھ راکٹ داغے گئے تاہم ان کی وجہ سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ چند ہی گھنٹوں کے بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ میں تین مقامات کو نشانہ بنایا۔

ابھی تک اس جھڑپ کی وجہ واضح نہیں ہوئی ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ میں کشیدگی کا سبب اسلامک جہاد نامی تنظیم کے ایک رہنماء کی سنیچر کو حماس پولیس کے ہاتھوں ہلاکت ہے۔

بتیس سالہ رائد قاسم پولیس اور ان کے خاندان کے اراکین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ غیر مصدیقہ اطلاعات کے مطابق وہ حماس کے عسکری جز القدس بریگیڈ کے کمانڈر تھے۔

اتوار کی رات کو اسرائیل میں راکٹ داغنے کے واقعے میں اسلامک جہاد کے ملوث ہونے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ یہ کشیدگی کچھ قدرے پر امن عرصے کے بعد پیش آئی ہے۔

جنوبی اسرائیل میں اتوار کی رات کو سائرن سنائی دیے گئے اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق میزائل دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ نے دو راکٹ ناکارہ کیے۔

بی بی سی نامہ نگار رشدی ابو الوف کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی میں حماس اور اسلامک جہاد کے تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملیں۔

نشانہ بننے والا پہلا مقام اسلامک جہاد کا ایک تربیتی مرکز تھا۔ نامہ نگار کے مطابق دیگر دو مقامات حماس کی حکومتی سکیورٹی عمارتیں تھیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ کارروائی میں راکٹ داغنے کے مقامات اور ہتھیار ذخیرہ کرنے کے مقامات تھے۔

اسی بارے میں