کابل: افغان صدارتی محل پر طالبان کا حملہ

Image caption شدت پسندوں نے ابتدا میں صدارتی محل کے مشرقی گیٹ کو نشانہ بنایا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان نے صدارتی محل کے قریب سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حملہ آوروں اور صدارتی محل کے محافظوں اور قریب ہی واقع سی آئی اے کے سٹیشن کے عملے کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ انھوں نے کیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام حملہ آور ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

حملہ صدارتی محل کے قریب شش داراک کے علاقے میں منگل کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6:30 بجے شروع ہوا۔

حملے کے دوران شہر کے مرکز میں فائرنگ اور زوردار دھماکے ہوئے۔

شدت پسندوں نے ابتداء میں صدارتی محل کے مشرقی گیٹ کو نشانہ بنایا جہاں درجنوں صحافی صدر حامد کرزئی کی نیوز کانفرنس کے لیے جمع تھے۔

بی بی سی کے بلال سروری جو نیوز کانفرنس کے لیے جمع صحافیوں میں شامل تھے کہتے ہیں کہ ان کے سر کے اوپر سے گولیاں گزریں اور وہ فائرنگ کی وجہ سے پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ حملے کے وقت صدر حامد کرزئی محل میں موجود تھے یا نہیں۔تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے موبائل فون سے ایس ایم ایس پیغام میں کہا کہ’کئی ہلاک ہونے والوں نے صدارتی محل، وزارتِ دفاع اور آریانہ ہوٹل پر حملہ کیا۔‘

آریانہ ہوٹل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں سی آئی اے کا سٹیشن ہے۔اطلاعات کے مطابق حملہ آور ایک عمارت میں گھس گئے جنھیں بعد میں ہلاک کر دیا گیا۔

کابل پولیس کے سربراہ ایوب سالنگی نے کہا کہ شدت پسندوں کے حملے کو دو گھنٹوں کے اندر ہی ختم کر لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اندازہ ہے کہ حملہ آور چار تھے اور ان شدت پسندوں نے چیک پوسٹوں سے گزرنے کے لیے جعلی پاس استعمال کیے تھے۔

افغانستان میں موجود نیٹو افواج نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی افغان نیشنل فورس نے کی۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صدر کرزئی نے امریکہ کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر اعتراض کیا۔

انھوں نے کہا تھا کہ اعلیٰ سطح افغان امن کونسل اس وقت تک ان مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا جب تک قیام امن کے عمل کی سربراہی افغان حکومت کے پاس نہ ہو۔

افغان دارالحکومت کابل گذشتہ کئی سالوں سے بم حملوں، خودکش حملوں اور فائرنگ کے واقعات کی زد میں ہے۔

جون کے دوسرے ہفتے میں بھی سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر ہونے والے خود کش بم دھماکے میں کم از کم سولہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں