’برطانیہ میں عدالتوں کی نجکاری پر تنبیہ‘

برطانیہ کے چیف جسٹس نے وزیر انصاف کی جانب سے عدالتوں کی نجکاری کے منصوبے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہچنانے کی کوشش نہ کی جائے۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق وزیر قانون کرس گریلنگ کا منصوبہ ہے کہ عدالتوں کے کچھ شعبوں کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے یا ان کو اس قابل بنا دیا جائے کہ یہ اپنے مالی وسائل خود برداشت کر سکیں۔

اخبار کے مطابق گزشتہ ماہ انگلینڈ اور ویلز کے اعلیٰ ترین ججوں کی طرف سے ارسال کیےگئے خط میں وزارتِ انصاف کے منصوبے کے بارے میں واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔

اس خط کے مطابق ایچ ایم عدالتوں اور ٹربیونل سروسز’ایچ ایم سی ٹی ایس‘ میں بڑے مالی امور کے لیے مشاورتی کمپنی مکینزی اینڈ کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

گارڈین اخبار کے مطابق چیف جسٹس کے مطابق اس منصوبے پر عمل سے میگنا کارٹا کے اس کی نفی ہوگی کہ انصاف فروخت نہیں ہو سکتا۔

مینگا کارٹا ایک اہم دستاویز ہے جس میں سنہ بارہ سو پندرہ میں برطانوی عوام نے اپنے بادشاہ کو مجبور کیا تھا کہ وہ انصاف سے بالاتر نہیں۔

ججوں کے خط میں ایک کورننگ نوٹ پر درج ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ کی تعاون کے بارے میں خواہش اور واضح خدشات کی جائزے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

یہ جائزہ پریزائڈنگ جج لارڈ جسٹس گروس نے لکھا ہے۔

اس سے پہلے برطانوی وزارتِ انصاف نے کہا تھا کہ وہ عدالتوں اور ٹربیونلز کے انتظامی معاملات میں اصلاحات کے بارے میں جائزہ لے رہی ہے لیکن اس نے تردید کی تھی کہ وہ ساری عدالتی خدمات کی نجکاری کر رہے ہیں۔

وزیر انصاف کو بھیجے گئے خط کے مطابق’جب ہماری بائیس اپریل کو ملاقات ہوئی تھی، تو ہم نے عدالتوں میں اصلاحات کے حوالے سے پیش رفت کے جائزے پر بات چیت کی تھی، آپ نے محکمے کے مالی پوزیشن پر وضاحت کی تھی کہ یہ اصلاحات اب ضروری ہیں اور کارروائی تیزی سے ہو رہی ہے‘۔

جج نے خط میں مزید کہا ہے کہ عدالتیں’ہم کسی بھی تجاویز پر اتفاق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں جب تک مزید معلومات سامنے نہیں آتی ہیں‘۔

ججوں کے خط کے ساتھ لارڈ جسٹس گروش کے جائزہ کا نوٹ بھی موجود ہے اور اس نوٹ’ایچ ایم سی ٹی ایس اصلاحات عدالتی جائزہ‘ کے مطابق اعلیٰ جج عدالتوں کے کام میں بہتری کے لیے تیار ہیں‘۔

لارڈ جسٹس گروس نے مزید کہا ہے کہ عدالتوں کے انتظامی امور عدالتوں کے پاس ہی رہنے چاہیں۔

یہ خط ایک ایسے وقت پر منظرعام پر آیا ہے جب وزارتِ انصاف کی جانب سے قانونی مدد میں کٹوتیوں کے منصوبے پر قانون کے پیشے سے منسلک لوگ متحد نظر آتے ہیں۔

جوڈیشل کمیمونیکشن آفیسر نے خط پر بیان دینے سے انکار کیا ہے جبکہ لیبر جسٹس کے ترجمان صادق خان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ ججوں کا حق ہے کہ وہ وزیر انصاف کو خبردار کریں کہ عدالتوں کو بڑی نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے سے ان کی عدالتی آزادی خطرے میں پڑ جائے گی۔ انہیں اس منصوبے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دینا چاہیے۔

اسی بارے میں