’نشہ آور ادویات منشیات سے زیادہ خطرناک ہیں‘

Image caption نئی نشہ آور ادویات تیزی سے بازار میں فروخت ہو رہی ہیں

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایسی نشہ آور اشیاء کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جن کی فروخت کی قانونی طور پر اجازت ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے منشیات اور جرائم کی عالمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتیں ایسی ادویات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں جنہیں ’قانونی‘حیثیت حاصل ہے۔

عالمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ہیروئن اور کوکین جیسی روایتی نشہ آور ادویات کے استعمال میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ لیکن ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے دیگر نشہ آور ادویات انٹرینٹ کے ذریعے پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے بازار میں فروخت ہونے والی ایسی سکون بخش ادویات روایتی منشیات سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں۔

منشیات کی عالمی رپورٹ کے متن کے مطابق نئی سکون بخش ادویات کتنی محفوظ ہیں یہ جانچا نہیں گیا ہے لیکن یہ ادویات ’صحت کے لیے غیر متوقع چیلنج‘ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصالحہ یا باتھ سولٹ یا میاؤں میاؤں جیسے نام دی گئیں ادویات نوجوانوں کو ’کم خطرے والی تفریح‘ کی جانب گمراہ کرتی ہیں۔

منافع بخش منڈیاں

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حکام جب تک نئی سکون بخش ادویات کی شناخت کرتے ہیں اس وقت تک اس کاروبار میں ملوث افراد اسے منڈیوں میں فروخت کر چکے ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ذہنی سکون کی ایسی زیادہ تر ادویات براعظم ایشیا میں تیار ہوتی ہیں اور پھر انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا میں پھیلائی جاتی ہیں۔

ان ادویات کی سب سے بڑی مارکیٹ امریکہ ہے جہاں نوجوانوں میں ادویات کا استعمال ’یورپی یونین کے مقابلے میں دوگنا بڑھ رہا ہے‘۔

اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ یورپی ممالک میں نئی سکون آور ادوایات کی بڑی منڈی برطانیہ ہے۔ برطانیہ میں پندرہ سے چوبیس برس کی عمر کے تقریباً سات لاکھ نوجوان قانونی طور پر جائز نشہ آور ادویات استعمال کرتے ہیں۔

رواں سال کے آغاز پر نشہ آور ادویات کے استعمال کے حوالے یورپی مانیٹرنگ سینٹر کی رپورٹ میں 73 نئی نشہ آور ادویات کا پتہ لگایا گیا تھا جبکہ 2011 میں 49 سکون آور ادویات کا پتہ لگایا گیا۔

اسی بارے میں