نیلسن مینڈیلا اور میری نسل کے لوگ

سنہ 1980 کی دہائی بھی عجیب دہائی تھی۔ پاکستان میں اگرچہ ضیاء اب تک زندہ تھا لیکن میری نسل تھی کہ خوابوں کی بلٹ ٹرین پر سوار تھی۔

آمریت کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے خواب ایسے تھے جیسے بقول شخصے عقابوں کی آنکھوں میں پہاڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کی خواہش ہوتی ہے۔

جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا اگرچہ کیپ ٹاؤن میں قید تھے لیکن سندھ کے کئی نوجوان ان کی رہائی کی مہم میں اپنی کلائیوں پر بندھی بریسلیٹز میں چھوٹے سے تالے جنوبی افریقہ کے اس عظیم رہنما کی آزادی تک لگانے کی گویا منت مانے ہوئے ہوتے تھے۔ انھوں نے ان تالوں کی چابیاں پھینک دی ہوئی تھیں۔

یہ سنہ 1987 تھا۔ سندھی اخبارات میں نیلسن مینڈیلا کی افریقن نیشنل کانگریس کے دنوں میں ساٹھ کی دہائی میں سزا سے قبل عدالت میں ان کی تقریر چھپا کرتی تھی لیکن ضیا فوجی آمریت کی وجہ سے خود سینسرڈ کی ہوئی۔ خاص طور جب اسی تقریر میں ان کا یہ جملہ تو ہوتا تھا کہ جنوبی افریقہ سیاہ و سفید دونوں کے لیے ہے۔

مینڈیلا کی تقریر کے اسی پیراگراف میں ’وہ حکومت اپنے مکمل با اختیار ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتی جس کی بنیاد لوگوں کی مرضی پر نہ رکھی گئی ہو‘ کو سینسر کردیا جاتا تھا کیونکہ پاکستان میں ضیا موجود تھا‘۔

ان دنوں پاکستان میں جولائی آمریت کے نفاذ کا مہینہ تھا لیکن ظاہر ہے کہ اسے اس طرح منانا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں تھا کہ تمام سیاسی سرگرمیوں پر بندش تھی اور ملک میں سخت قسم کی سینسر شپ عائد تھی۔

آمریت کی مذمت کے لیے 19 جولائی کو چنا جاتا کیونکہ یہ نیلسن مینڈیلا کا جنم دن تھا اور ان کے جنم دن کی تقریبات میں جہاں انھیں خراج تحسین پیش کیا جاتا وہاں لعن طعن آمریت پر بھی پڑتی۔

مجھے یاد ہے کہ جب جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاؤن جیل میں شاعر بنجامن مولائيز کو پھانسی دی جا رہی تھی تو کئی سندھی اور اردو شاعروں نے اس پر اور اس کی پھانسی پر نظمیں لکھی تھیں۔ یہ کالے لوگوں کی روشن نظموں کے دن تھے۔

یہ صرف اس جزیرے نما پر ہی لوگوں نے بنجامن مولائیز کی پھانسی کی رات رت جگے نہیں کٹے تھے۔ پر سندھ میں بھی کئی نوجوانوں نے اس کی پھانسی سے پہلی اور دوسری راتوں پر رت جگے کیے تھے۔ اس کی یاد میں شعمیں یہاں بھی روشن ہوئی تھیں۔ پھانسی یافتہ جنوبی افریقی شاعر بنجامن مولائیز اور نیلسن مینڈیلا جدید سندھی چاہے اردو شاعری میں استعارہ بن گئے۔

کیپ ٹاؤن سے دور اپنا جوبن جیل کی دیواروں کے نام کرنے والا مینڈیلا

سلاخوں کے پار شعلہ بار آنکھوں سے دیکھتا ہے

بحر ہند اور اوقیانوس کے بیچ

افریقہ کی کالکی دھرتی پر

’آزادی کےسرخ گلاب کھلتے ہیں‘۔ بنجامن مولیز کی پھانسی والی رات لکھی ہوئی ایک سندھی نظم تھی۔ انھی دنوں نیلسن مینڈیلا کی قید کو امریکی جریدے لائف نے ’امید کی سازش‘ سے تعبیر کیا تھا۔

اسی طرح سندھی قوم پرست سیاست میں بھی نیلسن مینڈیلا اور ان کی تحریروں و جدوجہد کو آدرش مان لیا گیا۔ معمر سندھی قوم پرست سیاستدان جی ایم سید کا طویل جیلیں اور نظر بندیاں کاٹنے کے حوالے سے نیلسن مینڈیلا کی طویل ترین قید سے موازنہ کیا جاتا ہے۔

زندگی کی آخری سانسوں تک نظربندی میں گذارنے والے جی ایم سید نے اپنی 90 سالہ زندگی میں سے 28 برس قید و بند میں گذارے جو اتفاق سے یکمشت 28 برس قید کاٹنے والے نیلسن مینڈیلا کی قید کی معیاد جتنی ہے۔ شاید دنیا میں سیاسی بنیادوں پر طویل ترین قید کاٹنے والوں میں سے یہ دو شخص ہی تھے۔

حال ہی میں ایک اور سندھی قوم پرست علی حسن چانڈیو کی سندھی میں کتاب ’نیلسن مینڈیلا سندھ کی قومی تحریک‘ شائع ہوئی ہے۔مینا نقری جوہانسبرگ میں رہتی ہیں ۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ پہلی بار انہوں نے نیلسن مینڈیلا کا نام کراچی میں 13 سال کی عمر میں سنا تھا جب ان کے کزن نے ان پر ایک نظم لکھی تھی اور تمام بہن بھائيوں نے پھر اس نظم پر پینٹنگ کی تھی۔

دنیا کا یہ عظیم قد آور حریت پسند رہنما ہر دور کے نوجوانوں کا اور ہر وقت کا رومانس تھا۔

شکاگو میں سندھی قرم پرست رہنما نے مجھ سے نیلسن مینڈیلا کی کتاب ’لانگ واک ٹو فریڈم‘ مستعار لیکر پڑھی تھی۔ صفدر سرکی کو سنہ 2005 میں پاکستان میں مبینہ طور خفیہ ایجینسوں نے غائب کر دیا تھا۔ وہ جب 20 ماہ کی گمشدگی کے بعد آزاد ہوکر امریکہ آئے تو انھوں نے مجھے بتایا ’بیس ماہ کے قید و ٹارچر میں جس چيز نے مجھے ٹوٹ جانے سے بچا رکھا وہ نیلسن مینڈیلا کی کتاب ’لانگ واک ٹو فریڈم‘ تھی جو میں نے تم سے لیکر پڑھی تھی‘۔

اسی بارے میں