مصر: صدر کے حمایتی اور مخالفین کی ریلیاں

Image caption مصری صدر مرسی کی صدارت کا ایک سال عدم اطمینانی اور معیشت میں گراوٹ کی زد میں رہا

سیاسی طور پر انتہائی منقسم ملک مصر میں صدر مرسی کے حامی اور حزب اختلاف عوامی ریلیاں ہیں جس کے پیش نظر دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

حزبِ اختلاف کی جانب مجوزہ ریلی سے دودن قبل جمعہ کو صدر محمد مرسی کے حامی ریلی نکال رہے ہیں۔ حزبِ اختلاف صدر محمد مرسی کے مستفعی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

صدر مرسی کے حامی جمعہ کو ہزاروں کی تعداد میں دارالحکومت قاہرہ میں جمع ہو کر صدر مرسی کے ’قانونی جواز‘ کی حمایت میں ریلیاں نکال رہے ہیں۔

دریں اثناء خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جمعہ کو ہونے والی ریلی سے چند گھنٹوں قبل نیل ڈیلٹا والے شرقیہ صوبے میں اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں تصادم کے واقعے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اخوان المسلمین نے اس تشدد کا الزام حزب اختلاف کے کارکنوں پر لگایا ہے۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف صدر محمد مرسی کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے اور ملک گیر پرامن ریلیاں نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

صدر مرسی نے حزب اختلاف کی جانب سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو مسترد کر تے ہوئے بات چیت کی پیش کش کی تھی۔

مصر میں حزب اختلاف کے اہم اتحاد نے صدر مرسی کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں حزبِ اختلاف نیشنل سالویشن فرنٹ نے کہا کہ وہ ’جلدی صدارتی انتخابات کرانے کی اپنے مطالبے پر قائم ہے‘۔

Image caption حزب اختلاف کی ریلی سے قبل صدر مرسی کی حمایت میں جمعہ کو ریلیاں نکالی جا رہی ہیں

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں یقین ہے کہ عوام لاکھوں کی تعداد میں مصر کی تمام سڑکوں اور چوراہوں پر نکلیں گے اور اپنی خوابوں کی تعبیر کے لیے 25 جنوری کے انقلاب کو پھر سے شروع کریں گے۔‘

حزبِ اختلاف اس انقلاب سے 2011 جنوری میں صدر حسنی مبارک کے دور کے خاتمے کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

بدھ کو صدر محمد مرسی نے اپنی کارکردگی کا دفاع کیا تاہم انھوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا اور ان کے تدارک کے لیے فوری اور بنیادی اصلاحات کی بات کی۔

اس سے قبل اپنی صدارت کے ایک سال کے موقع پر صدر مرسی نے کہا تھا کہ ملک میں جاری بے اطمینانی کے اظہار سے ’مصر کے مفلوج ہونے کا خطرہ‘ ہے۔

مرسی 30 جون 2012 کو انتخاب میں کامیابی کے بعد مصر کے پہلے اسلامی صدر بنے تھے۔

ان کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینانی اور معیشت میں گراوٹ کی زد میں رہا۔

اسی بارے میں