’میں طالبان سے کیسے فرار ہوا‘

فرانسیسی امدادی کارکن اور فوٹوگرافر پیئر بورغی نے چار ماہ زنجیروں میں جکڑے طالبان کی تحویل میں گزارے۔ مگر پھر انھیں فرار کا ایک موقع ملا جس میں اُن کی کامیابی کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ ’طالبان ڈائٹ‘ سے اُن کا وزن کافی کم ہوگیا تھا۔

بی بی سی کے پروگرام آوٹ لُک نے اُن سے بات کی اور اُن کی کہانی اُن کی زبانی پیش کی۔

’مجھے طالبان نے منگل ستائیس نومبر کی شام کو اغوا کیا۔‘

’کابل میں وہ عام سا دن تھا۔۔۔ بم دھماکوں یا فائرنگ کی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ میں بازار گیا اور رات کے کھانے کے لیے نوڈلز خریدے۔ اس کے بعد میرا ارادہ ایک خاموش شام گزارنے کا تھا۔‘

’افغانستان میں دوسری مرتبہ گیا تھا اور مجھے آئے ہوئے ابھی دو ہفتے ہی ہوئے تھے۔ میں شہری منصوبہ بندی کے اداروں اور امدادی تنظیموں میں نوکری ڈھونڈ رہا تھا۔ ساتھ ہی میں بطور فوٹوگرافر بھی نام کمانا چاہ رہا تھا۔‘

’میں وینیو نامی ایک بار سے واپس آ رہا تھا جہاں میں کچھ دوستوں کے ساتھ کابل میں آمد و رفت کے لیے محفوظ ترین طریقے کے بارے میں بحث کر رہا تھا۔ حفاظتی اقدامات کے حوالے سے میں فکرمند تھا مگر وینیو کابل کے شاید محفوظ ترین علاقے قلعہِ فتح اللہ میں واقع ہے۔ میری رہائش بھی شاید وہاں سے صرف پانچ سو میٹر ہی دور تھی۔ میرا خیال نہیں تھا کہ پانچ یا دس منٹ باہر گزارنا اتنا بڑا خطرہ ہوگا۔‘

’یہ خیال شاید غلط تھا۔‘

’ایک سفید ٹویوٹا کرولا مجھ سے چند میٹر دور ہی آ کر رُکی۔ روایتی افغان لباس شلوار قمیض پہنے داڑھی والے چار مرد اترے اور میری جانب بڑھنے لگے۔‘

’انھوں نے مجھے زبردستی گاڑی میں بیٹھانے کی کوشش کی۔ جب میں نے لڑنے کی کوشش کی تو ان میں سے ایک نے پستول نکال لی۔‘

’انھوں نے مجھے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بٹھایا اور ہم کئی حفاظتی ناکوں سے گزرے۔ تھوڑی دیر کے بعد انھوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی اور مجھے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ گاڑی کی ڈگی میں بند کر دیا۔‘

’البتہ میں انتہائی خوفزدہ تھا مگر میں ایک اپنی بقا کے لیے ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ آپ کے شعور میں یہ ایک شدید کیفیت بن جاتی ہے۔ آپ سوچتے ہیں کہ اچھا اب یہ سچ مچ ہو رہا ہے۔ آپ خوف کو طاری نہیں ہونے دیتے اور آپ سوچے سمجھے فیصلے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

’میرے اغوا کاروں کا کہنا تھا کہ وہ طالبان ہیں، القاعدہ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ انھیں مجھ سے ذاتی طور پر کوئی دشمنی نہیں مگر انھیں میرے ملک سے مسئلہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے مجھے اغوا اس لیے کیا کہ میں ایک مغربی شہری تھا اور میرا ملک افغانستان کے خلاف جنگ کر رہا تھا۔‘

’انھوں نے مجھے زمین میں ایک گڑھے میں ڈال دیا۔ مجھے ایک کاغذ کا ٹکڑا دیا گیا جس پر مجھے اپنے بارے میں معلومات لکھنا تھیں۔ یہ کاغذ پھر ’طالبان کابینہ‘ کو پیش کیا جانا تھا تاکہ وہ میرے ماضی کے بارے میں معلومات اکھٹی کر سکیں۔ انھوں یہ معلوم کرنا تھا کہ میں کہیں فوجی، جاسوس یا پھر سفارت کار تو نہیں۔ اگر میں ان میں سے کوئی بھی ہوتا تو فوراً مار دیا جاتا۔ میرا ماضی پرکھنے کے بعد یہ کاغد کا ٹکڑا فرانسیسی حکام کو میرے زندہ ہونے کے ثبوت کے طور پر دیا جانا تھا۔‘

’اس موقعے پر میں نے کاغذ کا ایک ٹکڑا اور قلم اپنے پاس ہی رکھ لیا۔ اس صفحے پر میں وہ چیزیں لکھنے لگا جو میں اپنی رہائی کے بعد کروں گا۔‘

’وقت گزارنے کے لیے میں اسے کاغذ پر شطرنج کی چالیں بھی تیار کرنے لگا۔‘

’دس روز کے بعد انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے کابل لے کر جا رہے ہیں اور چھوڑنے والے ہیں۔ مجھے ایک موٹر سائیکل پر بیٹھایا گیا، میری آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ باندھ دیےگئے۔ لیکن کابل کی بجائے مجھے کچی سڑکوں، دریاؤں اور پہاڑوں کے درمیان سے ایک دوسرے مقام پر لے گئے۔

وہ مجھے دوسرے زمینی گڑھے کی جانب لے کر جا رہے تھے۔ مگر اس سے پہلے میں نے دس عجیب دن گزارے۔ مجھے ایک افغانی گھرانے میں رکھا گیا جس کی نگرانی دو طالبان جنگجو کر رہے تھے۔‘

’یہ بہت عجیب تھا۔ ہم اکھٹے کھانا کھاتے، سوتے جاگتے، یہاں تک کہ مل کر ان کے موبائل فون پر ویڈیوز دیکھتے۔ میں نے انہیں تاش کی چند گیمز بھی سیکھائیں جو ہم کئی گھنٹوں تک کھیلتے رہتے۔ ایک ایسا شخص جو کھبی بھی آپ کو گولی مار سکتا ہو، اُس کے ساتھ تاش کھیلنا آسان نہیں خاص طور پر جب وہ بے ایمانی کر رہا ہو۔‘

’مگر طالبان جنگجوؤں کو اور بہت سے کام بھی تھے، اسی لیے مجھے ایک ایسی جگہ منتقل کر دیا گیا جہاں وہ آسانی سے میری نگرانی کر سکتے تھے۔ مجھے ایک اور زیرِ زمین گڑھے میں منتقل کر دیا گیا۔ اُس کے اوپر جانوروں کا ایک باڑا تھا۔‘

’مجھے رفعِ ہاجت کے لیے ایک بالٹی دی گئی۔ اس گڑھے میں کوئی روشنی نہیں تھی۔ آئندہ ساڑھے تین ماہ کے لیے مجھے یہیں رکھا گیا۔ مجھے صرف تین یا چار مرتبہ تاوان کے لیے ویڈیو بنانے کے لیے نکالا گیا۔ میرے ہاتھوں اور پیروں کو زنجیروں سے جکڑا گیا تھا۔ کبھی کبھی باہر سے آنے والی آوازیں ہی صرف میرے لیے وقت گزرنے کا احساس پیدا کرتی تھیں۔ کبھی کسی کسان کے لکڑی کاٹنے کی آواز یا آسمان پر ہیلی کاپٹر اڑنے کی۔ مگر افغان موسمِ سرما انتہائی خاموش ہوتا ہے۔‘

’وقت کے ساتھ میں شدید اکتاہٹ محسوس کرنے لگا۔ اس کیفیت کو دور کرنے کے لیے میں نے آزاد ہونے کے بعد کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ میں اپنے خیالوں میں شہروں اور عمارتوں کے نقشے تیار کرنے لگا۔ جب مجھے بھوک لگتی تو میں کھانوں کی نئی نئی ترکیبیں سوچتا۔ اب میں دوستوں کی دعوت کر کے اُن میں سے چند بنانے کی کوشش بھی کروں گا۔‘

’میں نے خود سے باتیں کرنا بھی شروع کر دیں اور میں مختلف گیت گانے لگا۔ میں نے سوچا کہ البتہ میں خود سے باآواز بلند باتیں کر رہا ہوں اس میں پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔ مجھے اس کی ضرورت ہے۔‘

’اپنے خیالوں میں پیاروں سے بھی باتیں کرتا تھا۔‘

’آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں جس قدر فرانسیسی ہو سکتا تھا، ہوا۔ مزاح اور اپنا مذاق اُڑانا بہت اہم تھا۔‘

Image caption ’موسمِ سرما خاموش ہونے کے علاوہ انتہائی سرد بھی ہوتا ہے‘

’جن زنجیروں سے مجھے باندھا گیا تھا، وہ اتنی کُھلی تھیں کہ میں نے ایک ہاتھ اور ایک پیر رہا کر لیا تھا۔ میرے گھڑے کے دروازے پر کوئی تالا نہیں تھا اور میں نکل کر باڑے میں گھومنے لگا۔ کئی بار تو میں پوری پوری شام وہیں بیٹھا رہتا تھا۔ اس وقت میرے دل میں امید پیدا ہوئی کہ میں فرار ہو سکتا ہوں۔‘

’لیکن افغان موسمِ سرما خاموش ہونے کے علاوہ انتہائی سرد بھی ہوتا ہے۔ اس ملک میں رہنے کے تجربے نے مجھے یہ ضرور سیکھا رکھا تھا کہ اگر میں رات کو بھاگ بھی گیا تو مجھے جو کپڑے پہنائے گئے تھے، اُن کی بدولت میں جمی ہوئی لاش ہی بن سکتا ہوں۔‘

’اسے لیے میں انتظار کرنے لگا۔‘

’میرے زندہ ہونے کے ثبوت کے لیے میری ویڈیوز بنائی جاتی تھیں۔ مجھے کہا جاتا تھا کہ اپنے لوگوں سے کہو کہ میں بیمار ہوں، میں تھکا ہوا ہوں۔ کہو کہ میں گھر جانا چاہتا ہوں اور کہو کہ یہ جو مانگتے ہیں انھیں دے دیں۔‘

’وہ کہتے تھے کہ اپنے گھر والوں کی خاطر ویڈیو میں مثبت باتیں کرو تاکہ وہ پریشان نہ ہوں۔‘

’اٹھائیس مارچ کی صبح مجھے ایسی ایک ویڈیو بنانے کے لیے نکالا گیا۔ مجھے بتایا گیا کہ چونکہ فرانس طالبان کے مطالبات منظور نہیں کر رہا اسی لیے آئندہ کچھ دنوں میں مجھے مار دیا جائے گا۔ خفیہ ذرائع سے آنے والے میرے چند خطوط مجھے دیے گئے اور پھر گڑھے میں پھینک دیا گیا۔‘

’یہ میرے لیے مشکل ترین وقت تھا۔‘

’میں نے حساب لگانا شروع کیا کہ اس ویڈیو کے فرانسیسی حکام تک پہنچنے میں اور اُن کے اس بارے میں فیصلہ کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ میں بھاگنے کے خطرے کو روکنے کے مقابلے میں تولنے لگا۔ میں نے اس پریشانی میں دس دن گزارے۔‘

’اور پھر میں نے فیصلہ کر لیا۔ میں ایک اور دن اس طرح نہیں گزار سکتا تھا کہ کسی بھی وقت میرا قاتل آئے اور طالبان کے لیے ایک بوجھ کو ختم کر دے۔‘

’جانوروں کے باڑے میں زمین سے تین میٹر اوپر ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی۔ سات اپریل کی رات میں نے اپنی زنجیروں کو ایک کپڑے میں لپیٹا تاکہ اُن کی آواز نہ آئے۔ گذشتہ چند روز سے میں کچھ کھانا اور چائے ذخیرہ کر رہا تھا۔ اس سب کو لے کر میں نے کھڑکی سے نکالنے کی کوشش کی۔ جب بات جسم کے نچلے حصے تک پہنچی تو میں پھس گیا۔ میں ایک دم سے شدید پریشان ہوا مگر کچھ دیر زور آزمائی کے بعد میں نکل ہی گیا۔گذشتہ چار ماہ میں میرا گیارہ کلو وزن کم ہوا تھا۔اپنے پرانے وزن کے ساتھ میں یہ نہ کر پاتا۔‘

’آپ اسے طالبان ڈائٹ کہہ سکتے ہیں۔‘

’دور مجھے چند روشنیاں نظر آئیں اور میں اُن کی جانب چلنے لگا۔ ساری رات، تقریباً آٹھ یا دس گھنٹے میں پیدل چلتا رہا۔‘

’راستے میں آنے والی چوکیوں سے میں چھپتا تھا کیونکہ یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہ فوجی ناکہ ہے یا طالبان کا۔‘

’میں ایک عمارت کے باہر پہنچا تو ایک محافظ نے مجھے روکا۔ شاید اسے بھی سمجھ نہ آئی کہ وہ میرا کیا کرئے۔ اس نے اپنے کمانڈنٹ کو بلایا جس نے ترجمہ کرنے والوں کو بلایا اور میرے سے سوال جواب شروع ہوگیا۔ ‘

’چند گھنٹے بعد مجھے ایک جنرل کے ساتھ فوجی قافلے کے ساتھ کابل بھیجاگیا۔ گاڑی میں بیٹھے میں سوچ رہا تھا کہ تقریباً اس وقت ہی میں اغوا کاروں کو معلوم پڑا ہوگا کہ میں بھاگ چکا ہوں۔ میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔‘

’کابل میں ہسپتال پہنچ کر میں ایک سو اکتیس دن کے بعد نہایا اور آخر کار میں نے گھر فون کیا۔‘

’میری ان فرانسیسی سفارت کاروں سے ملاقات بھی ہوئی جو میرا کیس دیکھ رہے تھے۔ میرا نہیں خیال کہ وہ کبھی بھی تاوان دیتے۔‘

’آج میں یورپ میں واپس ہوں۔ مجھے اپنی زندگی میں بہت کچھ سدھارنا ہے۔ میرے دل میں آج بھی افغانستان کی چاہ ہے۔ یہ میرے اور وہاں کے لوگوں کے درمیان ایک محبت کی داستان ہے۔کچھ سالوں بعد میں واپس جاؤں گا جب وہاں حالات کچھ بہتر ہوں گے۔‘

اسی بارے میں