یورپی یونین کا امریکہ سے ’جاسوسی‘ کی وضاحت کا مطالبہ

Image caption خیال کیا جا رہا ہے کہ اس وقت ایڈورڈ سنوڈن ماسکو کے ہوائی اڈے پر ہیں

یورپی پارلیمنٹ کے سربراہ نے امریکہ کی جانب سے یورپی یونین کے دفاتر کی خفیہ معلومات حاصل کرنے کی خبروں پر ’مکمل وضاحت‘ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک جرمن میگزین نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن ایک ایسی دستاویز منظرِ عام پر لائے ہیں جس سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی حکومت نے یورپی یونین کے دفاتر کی جاسوسی کی۔

پورپی پارلیمان کے سربراہ مارٹن سکلز نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ امریکہ نے یورپی یونین کے دفاتر کی جاسوسی کی ہے تو اس کا امریکہ اور یورپی یونین کے تعلقات پر ’گہرا اثر‘ پڑے گا۔

جرمنی کے سپیگل میگزین کا کہنا ہے کہ امریکی قومی سکیورٹی ایجنسی کے ستمبر دو ہزار دس کے ایک خفیہ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایجنسی نے کس طرح یورپی یونین کے دفاتر کی جاسوسی کی۔

میگزین کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن یہ دستاویز منظرِ عام پر لائے ہیں۔

دستاویز یہ بھی بتاتا ہے کہ حکام نے واشنگٹن میں اور اقوام متحدہ کی عمارت میں یوپی یونین کے دفاتر میں اندورنی کمپیوٹر نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی۔

میگزین کا کہنا ہے کہ دستاویز میں یورپی یونین کو واضح طور پر ’ہدف‘ قرار دیا گیا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی کو مطلوب سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈرن نے ایکواڈور میں پناہ کی درخواست دی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یورپی یونین کی امریکی جاسوسی کے بارے میں زیادہ تفصیل تو معلوم نہیں ہے لیکن یورپی یونین میں شامل یورپی ممالک کی تجارت اور دفاعی معلومات تک رسائی سے امریکہ کے لیے پورپی ممالک سے مذاکرات میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

سنیچر کو جاری ہونے والے بیان میں پورپی پارلیمان کے سربراہ مارٹن سکلز نے کہا ’یورپی پارلیمنٹ کی جانب میں امریکی حکام سے ان الزامات کی مکمل وضاحت طلب کرتا ہوں۔‘

دوسری جانب امریکی حکومت نے جرمن میگزین کی خبر پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈرن اس وقت ماسکو کے ہوائی اڈے پر ہیں جہاں وہ ہانگ کانگ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل آئے تھے۔

امریکی نائب صدر جؤ بائیڈن نے ایکواڈور کے صدر سے امریکی حکومت کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔

صدر رافائل کوئریا کے مطابق امریکی نائب صدر نے اُن سے ایڈورڈ سنوڈن کی پناہ کی درخواست مسترد کرنے کے لیے کہا ہے ۔تاہم امریکی ذرائع نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا۔

پیر کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ اگر روس اور چین نے ایڈورڈ سنوڈن کی مدد کی تو یہ’مایوس کن‘ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بھارت کے دورے کے موقع پر کہا کہ اس طرح کے اقدام کے ’نتائج‘ ناگزیر ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے جاسوسی کے خفیہ پروگرام کی معلومات ذرائع ابلاغ کو بتانے پر ایڈرورڈ سنورڈن امریکی حکومت کو مطلوب ہیں۔

انھوں نے امریکی خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی میں کچھ عرصے تک ملازمت کی تھی۔امریکی وزارت دفاع کی جانب سے ایڈورڈ سنوڈن پر جو فردِ جرم عائد کیا گیا اُس کے تحت الزامات میں جاسوسی اور حکومت املاک کی چوری شامل ہے۔

ان الزامات کے تحت انھیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے

دوسری جانب ایڈورڈ سنوڈن کے والد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کو یقین ہے کہ ان کا بیٹا جاسوسی کے فردِ جرم کا سامنا کرنے امریکہ ضرور آئے گا۔

ایک امریکی ٹی وی سٹیشن کو انٹرویو میں لون سنوڈن نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ ان کا بیٹا رضا کارارنہ طور پر امریکہ واپس آئیں گے اگر ان سے یہ وعدہ کیا جائے گا مقدمے سے قبل ان کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

لون سنوڈن نے کہا کہ ان کو تشویش ہے کہ ان کے بیٹے کو کچھ لوگ استعمال کر رہے ہیں بشمول وکی لیکس کے۔

یاد رہے کہ تیس سالہ ایڈورڈ سنورڈن امریکی ریاست کیلیفورنیا کے رہنے والے تھے۔

اسی بارے میں