’مشرقِ وسطی امن مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں‘

جا کیری
Image caption اب اختلافات بہت کم ہوگئے ہیں۔جان کیری

امریکی وزیرِخارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ فلسطین اور اسرائیلی کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ تھوڑی اور محنت سے شروع کیا جا سکتا ہے۔

جان کیری نے ابو ظہبی کے اپنے طے شدہ دورے کو منسوخ کر کے سنیچر کو اپنے اس امن مشن کو جاری رکھا۔

گزشتہ تین دنوں میں جان کیری کبھی فلسطینی صدر محمود عباس اور کبھی اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ تاہم فلسطینی مذاکرات کار سائب اراکات کا کہنا ہے کہ ابھی اس سمت کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تازہ ترین ملاقات ’ مثبت اور گہری رہی لیکن ابھی بھی اسرائیلی اور فلسطینی موقف میں خاصا فاصلہ ہے۔

جان کیری نے خطے سے روانہ ہونے سے قبل تل ابیب میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے آپ کو یہ بتانے میں بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اس دورے میں حقیقی معنوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں تھوڑی سی اور محنت کی جائے تو دونوں فریق کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بھی بڑے اختلافات کے ساتھ کوشیں شروع کی تھیں اور اب یہ اختلافات بہت کم ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی اس طرح خطے سے جانا نہیں چاہتے تھے تاہم وہ اپنے پیچھے لوگ چھوڑ کر جا رہے ہیں جو ان کوششوں کو جاری رکھیں گے۔

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ دو دہائیوں میں وقتاً فوقتاً ہونے والے مذاکرات سے اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں نکل سکا۔ اور 2010 میں براہِ راست یہ مذاکرات کا یہ سلسلہ بند ہو گیا۔

اسی بارے میں