عراق: خودکش حملے میں بائیس افراد ہلاک

عراق میں پولیس کے مطابق ایک خود کش بم حملے کے نتیجے میں بائیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق اس خودکش حملے میں صوبہ دیالہ کے قصبے مقتدیہ میں پیر کی شام شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔

مقتدیہ شہر ملک کے دارالحکومت بغداد سے تقریباً 80 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے ایک پولیس افسر کے نمازہ جنازہ میں اپنے آپ کو دھماکے سے اْڑایا۔ اطلاعات کے مطابق جس پولیس افسر کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی انھیں بھی ایک حالیہ حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

دھماکے سے مسجد کی چت زمین بوس ہوگئی۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب عراق میں اقوامِ متحدہ کے مشن دفتر نے کہا کہ اپریل میں ملک میں جاری پرتشدد واقعات میں 2500 عراقی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

پیر ہی کو ایک دوسرے بم حملے میں بغداد شہر کے مرکز میں واقع ایک کیفے کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور تقریباً بیس زخمی ہو گئے۔

مقتدیہ میں جون میں ایران سے تعلق رکھنے والے زیارت کے لیے آئے ہوئے دس شیعہ افراد کو بھی خود کش حملے کا نشانیہ بنایا گیا۔

عراق میں شیعہ سنی مسلکوں کے درمیان شدید کشیدگی کی وجہ سے حالیہ پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ادھر سنی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیرِاعظم نور المالکی نے انھیں نظر انداز کیا ہے۔

اپریل میں تشدد اس وقت شروع ہوا جب سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی کی جس میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

.

اسی بارے میں