ملالہ کی دوست شازیہ تعلیم کے لیے برطانیہ میں

Image caption گورڈن براؤن اب اقوامِ متحدہ کے عالمی سطح پر تعلیم کے فروغ کے لیے نمائندے کے طور پر کام کر رہے ہیں

پاکستان کے وادی سوات کے شہر منگورہ میں ملالہ یوسفزئی کے ساتھ گذشتہ سال عسکریت پسندوں کے حملے میں زخمی ہونے والی طالبہ شازیہ رمضان کو برطانیہ کا سٹوڈنٹ ویزا مل گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پندرہ سالہ شازیہ نے برمنگھم پہنچنے پر اپنے دوست ملالہ یوسفزئی کے ساتھ ملاقات کی۔

گذشتہ سال نو اکتوبر کو سکول وین میں عسکریت پسندوں کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔

واضح رہے کہ دونوں لڑکیوں کی کفالت برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم گورڈن براؤن کا دفتر کر رہا ہے۔

گورڈن براؤن اب اقوامِ متحدہ کے عالمی سطح پر تعلیم کے فروغ کے لیے نمائندے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

گذشتہ سال سر میں گولی لگنے کے بعد ملالہ کو علاج کی غرض سے برطاینہ منتقل کر دیا گیا۔ صحت یابی کے بعد ملالہ نے گذشتہ مارچ میں سکول دوبارہ جانا شروع کیا۔

شازیہ رمضان کو بھی گورڈن برآؤن کے تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ادارے آ ورلڈ ایٹ سکول اور دوسرے خیراتی اداروں کی امداد کی بدولت برطانیہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع ملے گا۔

ورلڈ ایٹ سکول کی ویب سائٹ پر دیے گئے پیغام میں شازیہ رمضان نے کہا کہ’میں یہاں پر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملنے پر بہت خوش ہوں۔ میں ڈاکٹر بننے کی کوشش کرونگی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا بہت جی کرتا تھا کہ میں پاکستان میں رہوں اور اپنی تعلیم حاصل کرو لیکن مسلسل دھمکیوں کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھا۔

شازیہ نے کہا کہ’میں یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ حالات جیسے بھی ہوں اپنی تعلیم جاری رکھیں۔‘

خیال رہے کہ ملالہ یوسفزئی دنیا میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک عالمی مثال کے طور پر ابھری ہے۔

ملالہ یوسفزئی کو کئی ملکی اور غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا ہے جبکہ انھیں نوبل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں