سنوڈن کی روس میں سیاسی پناہ کی درخواست

Image caption خیال کیا جا رہا ہے کہ اس وقت ایڈورڈ سنوڈن ماسکو کے ہوائی اڈے پر ہیں

روس میں حکام کے مطابق امریکی حکومت کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے روس میں سیاسی پناہ لینے کی درخواست کی ہے۔

روس کی خبر رساں نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق ایڈورڈ سنوڈن کے سیاسی پناہ کی درخواست اتوار کو ماسکو ائیرپورٹ پر کونسلر کے حوالے کی گئی۔

انٹرفیکس نے دفترِخارجہ کے اہلکار کم شیچنکو کے حوالے سے بتایا کہ سنوڈن کے سیاسی پناہ کی درخواست وکی لیکس کے قانونی ٹیم کی ممبر سارہ حیریسن نے جمع کرائی جو ایڈورڈ سنوڈن کی نمائندگی کر رہی تھی۔

روس کے فیڈرل مائگریشن سروسز نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔

لاس انجلیس ٹائمز نے روسی دفترِ خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ سنوڈن نے پندرہ ممالک میں سیاسی پناہ لینے کی درخواست کی ہے۔

تئیس سالہ ایڈورڈ سنوڈن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تئیس جون کو ہانگ کانگ سے روانہ ہونے کے بعد ماسکو ایئرپور پر ہوٹل میں چھپے ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے روس کے صدر ولادمیر پوتن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’ماسکو کسی شخص کو کہیں پر بھی کسی کے حوالے نہیں کرتا اور نہ ہی ایسا کرنے کے ارادہ رکھتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر سنوڈن کہیں ایسی جگہ جانا چاہتے ہیں جہاں پر انھیں قبول کیا جائے تو وہ بخوشی جا سکتے ہیں۔‘

روسی صدر کا کہنا تھا کہ’اگر وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ہمارا صرف ایک شرط ہے۔شاید میرے منہ سے یہ بات عجیب لگتی ہے لیکن وہ ہمارے امریکی ساتھیوں کو نقصان پہنچانے والی اپنی سرگرمیاں بند کردیں۔‘

امریکہ نے اس تازہ صورتِ حال پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے تنزانیہ میں کہا تھا کہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان سنوڈن کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر مذاکرات ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ’ہمارے اور روس کے درمیان ملک بدری کا معاہدہ نہیں ہے۔ لیکن دوسری طرف ہم سمجھتے ہیں کہ سنوڈن روس تک بغیر سفری دستاویزات اور پاسپورٹ کے وہاں پہنچے ہیں۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ’ہمیں امید ہے کہ روس بین الاقوامی سفری قوانین کے مطابق فیصلے کرے گا۔‘

۔

اسی بارے میں