بغاوت نہیں کرنا چاہتے : مصری فوج

Image caption مصری فوج کے سربراہ نے کہا کہ اگر اڑتالیس گھنٹوں میں معاملات حل نہ ہوئے تو فوج ’روڈ میپ‘ مہیا کرے گی

مصری فوج نے اپنے ایک سابقہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد فوجی بغاوت نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں پر موجودہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے زور دینا ہے۔

واضح رہے کہ مصری فوج کے سربراہ نے ملک میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے سیاسی مخالفین کو اڑتالیس گھنٹوں کا وقت دیا تھا۔

فوج کے ترجمان کے فیس بک کے صفحے پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیان کا مقصد سیاسی جماعتوں پر زور دینا تھا کہ کشیدگی کو ختم کرنے اور لوگوں کے مطالبات پورا کرنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے قائم کرے۔

بیان کے مطابق عسکری قیادت فوجی بغاوت کو پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج 1977، 1986 اور 2011 میں مصر کی گلیوں میں رہی لیکن فوجی بغاوت نہیں کی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوج ہمیشہ لوگوں کی حمایت کرتی رہی۔

اس سے پہلے فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ اگر حکومت اور حزبِ اختلاف نےاگلے اڑتالیس گھنٹوں میں اپنے معاملات طے نہ کیے تو فوج ایک ’روڈ میپ‘ پیش کرے گی۔

تاہم مصری صدر محمد مرسی نے منگل کو کہا کہ سیاستدانوں کو وقت دینے سے پہلے ان سے مشورہ نہیں کیا گیا۔

صدارتی دفتر کا خیال ہے کہ اس بیان میں کچھ چیزیں ایسی ہے جس سے کنویژن بڑھنے کا خطرہ ہے۔

مصر میں صدر محمد مرسی کے اقتدار کے ایک سال مکمل پر لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل کر ان کے اقتدار سے علیحدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہروں کے شروع ہونے کے ایک روز بعد قاہرہ میں صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا گیا۔ اخوان المسلمین کے دفتر کے بار ہونے والے تصادم میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

فوج کے سربراہ جنرل عبدل الفتح السیسی نے سرکاری ٹیلی ویژن اپنے ایک بیان میں ملک کے سیاستدانوں سے کہا تھا کہ وہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں اپنے اختلافات کو ختم کر لیں ورنہ فوج ایک روڈ میپ مہیا کرے گی۔

فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ فوج سیاست یا حکومتی معاملات میں ملوث نہیں ہو گی۔

فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ ایسے احتجاج کی نظیر نہیں ملتی۔

اس سے قبل مصر میں حکومت مخالف مظاہرین نے صدر مرسی کی پارٹی اخوان المسلمین کے قاہرہ میں واقع ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا جس میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ اخوان المسلمین کے دفتر کے باہر اٹھ افراد مارے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے شمالی مقدم ضلع میں قائم عمارت میں تباہی مچائی اور اس میں آگ بھی لگا دی۔

تحریک تمرود (باغی) نے کہا کہ اگر صدر مرسی اپنا عہدہ نہیں چھوڑتے ہیں اور دوبارہ انتخابات نہیں کراتے ہیں تو ان کے خلاف ملک گیر پیمانے پر سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے گی۔

مصر بھر میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کی حکومت اپنی ایک سال کی مدت کے دوران معاشی اور سیکورٹی کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

جبکہ صدر مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے انہیں اس کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔

اتوار کو لاکھوں لوگوں نے ملک بھر میں جاری مظاہرے میں شامل ہوکر صدر مرسی کے استعفے کی مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ سنہ 2011 میں حسنی مبارک کے خلاف تحریک کے بعد سے دارالحکومت قاہرہ میں تحریر سکوائر پر کیا جانے والا یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔

اسی بارے میں