’سنوڈن، اکیس ممالک کو سیاسی پناہ کی درخواستیں‘

Image caption ایڈورڈ سنوڈن کے خلاف امریکہ میں بغاوت کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے

انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات شائع کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکومت کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے 21 ممالک کو سیاسی پناہ کی درخواستیں بھیجی ہیں۔

وکی لیکس کے مطابق جن ممالک کو یہ درخواست بھیجی گئی ہے اس میں چین، فرانس، آئر لینڈ اور ویزویلا بھی شامل ہیں تاہم سات یورپی ممالک نے کہا ہے کہ یہ درخواستیں نامکمل تھیں۔

ادھر روس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن نے روس کو دی جانے والی سیاسی پناہ کی درخواست پارلیمان کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد واپس لے لی ہے۔

سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے امریکی صدر براک اوباما پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان ممالک پر دباؤ ڈال رہے ہیں جہاں انھوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن نے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن ان کی گرفتاری کے لیے ماورائے قانون اقدامات کر رہا ہے اور انہیں پناہ دینے سے دوسرے ممالک کو منع کر رہا ہے۔

ایک ہفتہ پہلے ماسکو پہنچنے کے بعد اُن کا یہ پہلا عوامی بیان ہے۔

اس سے قبل روسی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایڈورڈ سنوڈن نے روس میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ اگر سنوڈن روس میں پناہ چاہتے ہیں تو انہیں حساس امریکی معلومات افشاء کرنے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔

ایڈورڈ سنوڈن کے خلاف امریکہ میں بغاوت کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

وکی لیکس کے مطابق اُن کا کہنا ہے کہ ’اوباما نے اپنے نائب صدر کو ہدایت کی ہے کہ ان ممالک کے سربراہان پر دباؤ ڈالیں جہاں میں نے پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔‘

Image caption ایک عالمی رہنماء کی جانب سے اس طرح کا دھوکہ یا ماورائے قانون جلاوطنی انصاف نہیں ہے، ایڈورڈ سنوڈن

یاد رہے کہ ایکواڈور کے صدر رافائل کوئریا کے مطابق امریکی نائب صدر نے اُن سے ایڈورڈ سنوڈن کی پناہ کی درخواست مسترد کرنے کے لیے کہا ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن کا کہنا ہے کہ ’ایک عالمی رہنماء کی جانب سے اس طرح کا دھوکہ یا ماورائے قانون جلاوطنی انصاف نہیں ہے۔ یہ سیاسی تشدد کے پرانے اور برے ہتھکنڈے ہیں۔ ان کا مقصد مجھے خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ میرے بعد آنے والے لوگوں کو ڈرانا ہے۔‘

بیان میں سنوڈن نے خود کو ایک ’بے ریاست‘ شخص قرار دیا۔

اس سے پہلے روس کی خبر رساں نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق ایڈورڈ سنوڈن کی سیاسی پناہ کی درخواست اتوار کو ماسکو ائیرپورٹ پر کونسلر کے حوالے کی گئی۔

انٹرفیکس نے دفترِخارجہ کے اہلکار کم شیوچنکو کے حوالے سے بتایا کہ سنوڈن کی سیاسی پناہ کی درخواست وکی لیکس کی برطانوی قانونی ٹیم کی رکن سارہ حیریسن نے جمع کرائی جو ایڈورڈ سنوڈن کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

روس کے فیڈرل اِمیگریشن سروسز نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔

لاس انجلیس ٹائمز نے روسی دفترِ خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ سنوڈن نے پندرہ ممالک میں سیاسی پناہ لینے کی درخواست کی ہے۔

تئیس سالہ ایڈورڈ سنوڈن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تئیس جون کو ہانگ کانگ سے روانہ ہونے کے بعد ماسکو ہوائی اڈے کے ایک ہوٹل میں چھپے ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے روس کے صدر ولادمیر پوتن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’ماسکو کسی شخص کو کہیں پر بھی کسی کے حوالے نہیں کرتا اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر سنوڈن کسی ایسی جگہ جانا چاہتے ہیں جہاں پر اُنھیں قبول کیا جائے تو وہ خوشی سے جا سکتے ہیں‘۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ہماری صرف ایک شرط ہے۔ شاید میرے منہ سے یہ بات عجیب لگتی ہے لیکن وہ ہمارے امریکی ساتھیوں کو نقصان پہنچانے والی اپنی سرگرمیاں بند کردیں‘۔

امریکہ نے اس تازہ صورتِ حال پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے تنزیہ انداز میں کہا تھا کہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان سنوڈن کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر مذاکرات ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے اور روس کے درمیان ملک بدری کا معاہدہ نہیں ہے۔ لیکن دوسری طرف ہم سمجھتے ہیں کہ سنوڈن روس تک بغیر سفری دستاویزات اور پاسپورٹ کے پہنچے ہیں۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ روس بین الاقوامی سفری قوانین کے مطابق فیصلے کرے گا۔‘

اسی بارے میں