شام میں شریعت، 14 سالہ محمد قطاع کا قتل

Image caption محمد قطاع کی ماں حلب کی سڑکوں پر اجنبیوں کے چہروں میں اپنے بیٹے کے قاتل کو تلاش کرتی پھر رہی ہے

شام میں توہین رسالت کے مبینہ الزام میں ایک چودہ سالہ لڑکے کے قتل سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ شام میں جاری مسلح بغاوت میں اسلامی شدت پسند کس قدر طاقتور ہیں۔

حلب سے بی بی سی کے نمائندے پال وڈ بتا رہے ہیں کہ کس طرح شریعت باغیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں پھیل رہی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق کس طرح محمد قطاع کی ماں حلب کی سڑکوں پر اجنبیوں کے چہروں میں اپنے بیٹے کے قاتل کو تلاش کرتی پھر رہی ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ وہ انہیں پہچان لیں گی کیونکہ ان کے سامنے ہی خوفزدہ بھیڑ کے درمیان اس کے بیٹے کو گولی ماری گئی تھی۔

ان کے 14 سالہ بیٹے محمد قطاع پر مبینہ طور پر توہین رسالت کا الزام تھا۔

ماں کے مطابق وہ ایک خوش مزاج اور فرمانبردار بچہ تھا اور اسے شعار کے علاقے میں سب لوگ پسند کرتے تھے جہاں ان کے گھر کے لوگ ایک کافی کا ٹھیلہ لگاتے تھے۔

گزشتہ ماہ ایک آدمی نے اس سے مفت میں کافی مانگی۔ اس پر قطاع نے ہنستے ہوئے مبینہ طور پر یہ جواب دیا: ’اگر پیغمبر خود بھی آ جائیں تو بھی مفت نہیں دوں گا۔‘

اس کی اس بات کو وہاں سے گزرنے والے تین مسلح لوگوں نے سن لیا۔انہوں نے اسے گھسیٹ کر ایک گاڑی میں ڈالا اور ساتھ لے گئے۔ تیس منٹ تک بری طرح پیٹے گئے، پھر قطاع کو لے کر واپس لوٹے اور سڑک پر کافی کی دکان کے پاس اسے پھینک دیا۔

پھر انہوں نے آواز لگا کر ہجوم اکٹھا کیا کہ ’اے حلب والو اے شعار والو۔ ان کی آواز نے قطاع کی ماں کو خبردار کیا۔‘

قطاع کی ماں نے کہا کہ ان میں سے ایک نے کہا کہ ’جو بھی پیغمبر کی توہین کرے گا اسے شریعت کے مطابق مار دیا جائے گا۔‘

قطاع کی ماں کہتی ہیں کہ ’اس آواز کو سن کر میں ننگے پاؤں دوڑ پڑی پہلے فائر کی آواز سنی، وہاں پہنچتے ہی میں گر پڑی۔ ان میں سے ایک نے اسے ایک اور گولی ماری پھر لات ماری۔ پھر تیسری گولی ماری اور اس پر مہر لگا دی۔‘

قطاع کی ماں نےکہا: ’تم اسے کیوں مار رہے ہو، وہ ایک بچہ ہی تو ہے۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: وہ مسلمان نہیں ہے، چلو یہاں سے۔‘

جون 10 کوقطاع کا قتل ہوا تھا۔ اس کی لاش کی تصاویر فیس بک اور ٹوئٹر پر پھیل گئیں۔ اس کے چہرے پر گولی ماری گئی تھی۔ جہاں ناک اور منہ ہونا چاہیے تھا وہاں سوراخ نظر آ رہا تھا۔ اس عمل کی بہت مخالفت ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق قاتل القاعدہ سے منسلک ایک اہم گروپ سے تھے اور شام میں جاری جدوجہد میں سب سے بڑی اسلامی تنظیم النصرہ فرنٹ پر شک ظاہر کیا جا رہا ہے۔

لیکن حلب کے تمام باغی گروہوں اور شہر کی اہم شرعی عدالت کی طرح القاعدہ اور النصرہ فرنٹ دونوں نے بھی اس قتل کی مذمت کی ہے۔

Image caption قطاع 14 سالہ لڑکا تھا جو اپنے والدین کے ساتھ کافی کا ٹھیلہ لگایا کرتا تھا

شرعی عدالت میں ایک جج جو محض 26 سالہ اسلامی سکالر ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ قاتل سرکاری جنگجو، ’شبیہہ‘ کے تھے جو جہادیوں اور دیگر جنگجوؤں کے درمیان اختلافات بھڑكانا چاہتے تھے۔

خاندان صدمے اور دہشت میں ہے اور اسے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اس کے لیے کس گروپ کو مورد الزام ٹھہرائے لیکن وہ مانتے ہیں کہ باغیوں کی حکومت ہی اس کے لیے ذمہ دار ہے۔

قطاع کے بڑے بھائی فواد کہتے ہیں کہ ’ہماری آزادی باقی نہیں رہی، جب شروع میں حلب میں باغیوں کا قبضہ ہوا تھا تب یہ ہمیں آزادی حاصل تھی لیکن اب نہیں ہے۔ اس کی جگہ شریعہ کونسل ہے جو مذہب کی اپنی ہی تشریح پیش کرتی ہے۔‘

حلب کی اہم شرعی عدالت نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ محمد قطاع کا قتل اسلام کے نام پر کیا گیا ہے لیکن قتل غیر اسلامی ہے اور یہ ایک فوجداری معاملہ ہے۔

بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ مارنے والوں کا مقصد جو بھی ہو، چاہے یہ حکومت کی ایک سازش ہو یا جہادیوں کی طرف سے اسلام کی انتہا پسند تشریح ہو حقیقت یہ ہے کہ شام میں باغیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں شریعت زور پکڑ رہی ہے۔

اسی بارے میں