طالبان ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں: پاکستان

Image caption بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ افغان حکومت میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو پرخلوص نہیں ہیں: دفتر خارجہ

پاکستان نے افغان فوج کے سربراہ کے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان پاکستان کے کنٹرول میں ہیں۔

افغان آرمی چیف جنرل شیر محمد کریمی کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے ردعمل میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق جنرل کریمی کا یہ انٹرویو پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں کہ پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا ہے یا اس نے انہیں افغانستان پر مسلط کر رکھا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے افغانستان کی سول اور فوجی قیادت کی طرف سےاستعمال کی جانے والی اشتعال انگیز زبان کو برداشت کر رہا ہے اور پاکستان نے اس پر بات نہیں کی۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ افغان حکومت میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو پرخلوص نہیں ہیں۔

’افغان حکومت کی درخواست پر ہی پاکستان مصالحتی عمل میں مدد کر رہا ہے اور افغانستان میں قیام امن کے لیے بین الاقوامی برادری کا ساتھ جاری رہے گا‘۔

Image caption طالبان پاکستان کے کنٹرول میں ہیں اور ان کی قیادت بھی پاکستان میں ہے: جنرل شیر محمد کریمی

اس سے قبل بدھ کوافغان آرمی کے سربراہ نے بی بی سی کے پروگرام ٹوڈے میں کہا تھا کہ اگر پاکستان طالبان سے شورش ختم کرنے کا کہے تو ملک میں جاری لڑائی ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔

افغانستان آرمی کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا اور ان کے رہنماؤں کو پناہ دیتا ہے۔

پاکستان طالبان کے فوجی گروپ کو کنٹرول کرنے کی اطلاعات کی تردید کرتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان سنہ 1994 میں طالبان کے آغاز سے سنہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے تک ان کا بڑا حامی رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق طالبان کے متعدد رہنما افغانستان سے بھاگ کر پاکستان آ گئے اور یہ گروپ پاکستان میں موجود چند عناصر کی بڑے پیمانے پر کی جانے والی مدد پر انحصار کرتا ہے۔

جنرل کریمی نے کہا کہ طالبان پاکستان کے کنٹرول میں ہیں اور ان کی قیادت بھی پاکستان میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مدارس کو بند کر دیا گیا ہے اور طالبان کو افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

جنرل کریمی کے مطابق اگر امریکہ اور پاکستان چاہیں تو افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان طالبان کی قیادت پر دباؤ ڈالے یا انھیں قائل کرے تو اس سے افغانستان میں امن قائم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔

اپریل میں نیٹو کی لیک ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان طالبان قیادت کی اس کی سرحدوں میں پناہ لینے کے بارے میں آگاہ تھا۔

Image caption امریکی اور افغان رہنما چاہتے ہیں کہ طالبان امن مزاکرات میں شامل ہوں

’طالبان کی ریاست‘ کے نام سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ طالبان کے سینئیر رہنما نصیر الدین حقانی اسلام آباد میں واقع پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے نزدیک رہائش پزیر تھے۔

خیال رہے کہ یہ رپورٹ گرفتار ہونے والے 27,000 طالبان، القاعدہ، غیر ملکی جنگجوؤں اور عام شہریوں سے کی جانے والی تفتیش پر منبی ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سے کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن کا کہنا ہے کہ افغانستان آرمی کے سربراہ کا بیان ایک ایسے حساس موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکہ طالبان سے مزاکرات کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ نے کہا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہے جس کے بعد طالبان نے گزشتہ ماہ قطر کے دارلحکومت دوحہ میں دفتر کھولا تھا۔

اسی بارے میں