صدارتی طیارے کی واپسی پر ہنگامی اجلاس

Image caption ’یہ صرف صدر کی نہیں بلکہ پورے خطے کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔‘ صدر ایو موریلیس

جنوبی امریکہ کے اتحادی ممالک جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

اس اجلاس کا مقصد منگل کے روز یورپی ممالک کی جانب سے بولیویا کے صدر ایو موریلیس کے طیارے کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کے اقدام کی مذمت کرنا اور یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

ان ممالک کا موقف ہے کہ یہ محض بولیویا کا نہیں بلکہ پورے خطے کے وقار کا معاملہ ہے۔

بولیویا کے نائب صدر الورو گارسیا لینیرا کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس یہ ایک کڑور بولیوین عوام کے لیے کیا جا رہا ہے جنھوں نے اس واقعے کو اپنی تذلیل سمجھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے صدر کا اغوا استعماریت کی جانب سے حملہ ہے۔

ملک کے صدر ایو موریلیس جب بدھ کی شام اپنے ملک واپس پہنچے تو انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یورپی ممالک امریکہ کے احکامات مانتے ہیں اور اس کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں۔ ’مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ یورپ کے چند ممالک کو امریکی بادشاہت سے آزادی حاصل کرنی ہوگی۔‘

’ہم فرانس کی حدود کے قریب پہنچے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہاں ہمارے داخلے کی اجازت نہیں۔ ہمیں روس واپس جانا تھا لیکن پھر ہم ہنگامی طور پر ویانا میں اترے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ صرف صدر نہیں بلکہ پورے خطے کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔‘

انھوں نے جنوبی امریکہ کے دیگر ممالک کی جانب سے اظہار یکجہتی پر شکریہ بھی ادا کیا۔

دوسری جناب بولیوین عوام بھی اس خبر کے بعد سڑکوں پر نکل آئی۔ نامہ نگاروں کے مطابق دارالحکومت لا پاز میں فرانس کے سفارتخانے کے باہر موجود مظاہرین نے فرانس اور یورپی ممالک کے پرچم نذرِ آتش کیے اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے فرانس سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ملک سے نکل جائے کیونکہ وہ متعصب ہے، منافقانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے اور وہ سامراجیت پر کاربند ہے۔

مظاہرین میں شامل ایک نوجوان ڈورہ آرٹیگا نے کہا ’ہم بہت برا محسوس کر رہے ہیں۔ ہم امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی ممالک کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں فرانس کے لوگوں کو اس پر سوچنا ہوگا۔ انہیں امتیازی رویہ نہیں اپنانا چاہیے اور ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جس کی تلافی ممکن نہ ہو۔‘

اس تمام صورتحال کے پیش نظر فرانس کے وزیر خارجہ نے ایک رسمی بیان بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ فرانس ہمہ وقت بولیویا کے صدر کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہتا ہے ۔

ارجنٹائن کی صدر کرسٹینا فرننڈس نے اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ واقعہ جنوبی امریکہ کی تذلیل ہے۔

’وہ مکمل طور پر حاصل استثنیٰ کے ساتھ اپنے صدارتی اور فوجی طیارے پر سفر کر رہے تھےاور اسے غیر قانونی طور پر قدیم یورپ میں روکا گیا۔ جب میں یہ کہتی ہوں کہ قدیم یورپ تو میں اسے صرف اصطلاحاً استعمال نھیں کرتی بلکہ میں اس سے میں حوالہ دے رہی ہوں اس استعماریت کا جس نے ہمارے خیال سے تسلط جما رکھا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ہماری ساتھی قوم کی نھیں بلکہ پورے جنوبی امریکہ کی تذلیل ہے۔‘

اگرچہ بولیویا کے صدر کے طیارے کی تلاشی تو نھیں لی گئی تاہم اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں کو خدشہ تھا کہ اس طیارے میں امریکہ کو مطلوب ایڈرورڈ سنوڈن سوار ہیں۔ سی آئی اے کے سابق اہلکار سنوڈن نے امریکہ کی خفیہ نگرانی کی معلومات منظر عام پر لائے اور وہ مختلف ممالک سے سیاسی پناہ کی درخواست کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں