مصر میں مرسی کے بعد نیا دور نئے چیلنج

مصر
Image caption کیا مصر کی فوج بغیر کسی خون خرابے کے ملک میں امن و امان بحال کر سکے گی

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے تحریر سکوائر میں جوش و جذبات اور احساسات سے بھر پور ماحول دیکھ کر ڈھائی سال پہلے کے تحریر سکوائر کی یادیں تازہ ہوگئیں۔

آتش بازی اور مصری پرچم اٹھا کر نعرے لگاتے لوگوں کے شور اور ہجوم نے فروری 2011 کے تحریر سکوائر کی یاد تازہ کر دی جب صدر حسنی مبارک اقتدار سے بے دخل ہوئے تھے۔

حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اٹھارہ دن تک ایسے مظاہرے ہوئے تھے جن کی مثال نہیں ملتی۔

حسنی مبارک کے بعد گزشتہ سال آزادانہ انتخابات کے نتیجے میں محمد مرسی صدر بن کر اقتدار میں آئے۔

اس بار صدر مرسی کو ہٹانے کے لیے صرف چار دن کے مظاہرے کافی رہے۔ صدر مرسی کے ِخلاف شدید احتجاج کے بعد ملک کی فوج بھی ان کے خلاف ہوگئی اور مصر میں فوج کی جانب سے صدر مرسی کی برطرفی کے بعد ملک کی آئینی عدالت کے چیف جسٹس عدلی منصور نے ملک کے عبوری صدر کا حلف اُٹھایا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مصر کے ان تازہ واقعات کے بعد حالات بہتر ہونگے یا پھر ملک مزید تقسیم اور تشدد کی جانب گامزن ہوگا۔

مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی نے جب ملک کے صدر محمد مرسی کو برطرف کرتے ہوئے ملک کا آئین معطل کرنے کے بعد ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کروانے کا اعلان کیا تو انہوں نے ان غلطیوں کو نہ دہراتے ہوئے احتیاط سے کام لیا جو ان کے پیشرو نے کی تھیں۔

فیلڈ مارشل حسین تنتاوی کے برعکس، جنہوں نے خود عارضی طور پر صدرحسنی مبارک کی جگہ لے لی تھی، جنرل عبدالفتح السیسی نے ملک کی آئینی عدالت کے چیف جسٹس عدلی منصور کو ملک کا عبوری صدر مقرر کردیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں نئے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات نہیں ہوتے ٹیکنو کریٹس کی حکومت ان کی مدد کرے گی۔

انہوں نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ ان کے خطاب کے موقع پر ملک کے اہم مذہبی اور حزبِ اختلاف کے رہنما بھی موجود رہیں۔

مصر میں تشدد میں حالیہ اضافے کے پیشِ نظر اس خطاب میں الاظہر اسلامک انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ اور کوپٹک چرچ کے رہنما کی تقاریر ان کے حق میں خاصی اہمیت کی حامل تھیں۔

اس موقع پر حزبِ اختلاف کے رہنما محمد البرادی نے بھی تقریر کی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کے مطالبات پورے ہوئے اور 2011 کا انقلاب دہرایا گیا۔

نصر شہر میں مرسی کے حامیوں کے مظاہروں کا مخالفین کے مظاہروں سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔تاہم ان کی موجودگی اس کشیدگی کی جانب اشارہ کرتی ہے جو ابھی دور کی جانی ہے۔

Image caption گزشتہ چند دنوں میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مصر کی فوج ملک کا ایک مضبوط ادارہ ہے

صدر مرسی کے حامیوں میں اچانک ہونے والی اس تبدیلی پر غم اور غصہ ہے۔ ان کے صدر کو اقتدار سے بے دخل کر کے محل سے نکال دیا گیا اور اس وقت غالباً وہ فوجی بیرک میں فوجیوں کی نگرانی میں ہیں۔

ُان کے خیال میں یہ ایک فوجی بغاوت ہے جس نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔

صدر مرسی کا تعلق اخوان المسلمین سے ہے جو مصر کی سب سے بڑی اور پرانی تنظیم ہے۔

2011 کی بغاوت کے بعد یہ تنظیم سیاسی پارٹی بنانے میں کامیاب رہی اور پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہی۔

حالانکہ اخوان المسلمین اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے لیکن سیاسی منظر سے اس جماعت کو نکال باہر کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہو سکتی ہے۔

کچھ تجزیہ نگار مصر میں فوجی مداخلت پر خطے میں اس طرح کے دیگر واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

ترکی کی مسلح افواج نے ماضی میں چار مرتبہ منتخب حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا ہے۔

گزشتہ چند دنوں میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مصر کی فوج ملک کا ایک مضبوط ادارہ ہے اور سیکولر اقدار کی حفاظت کر کے فوج نے اپنے کردار کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ آیا مصر کی فوج بغیر کسی خون خرابے کے ملک میں امن و امان بحال کر سکے گی اور آیا یہ ملک کو اس صورتِ حال سے نکالنے کے لیے ایک مضبوط جمہوری حکومت قائم کرنے کے اپنے وعدے کو نبھا سکے گی۔

اسی بارے میں