مصر: فوج نے مرسی کے تین حامیوں کو ہلاک کردیا

Image caption اخوان المسلمین کے تقربیاً تین سو ارکان کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں

مصر میں صدر مرسی کی برطرفی کے خلاف جاری مظاہرے میں فوج کی جانب سے فائرنگ میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فائرنگ کا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب مظاہرین صدارتی محافظوں کے آفسرز کلب کے باہر جمع ہو رہے تھے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر مرسی کو اسی آفسرز کلب میں رکھا گیا ہے۔

صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کا مطالبہ ہے کہ صدر کو اُن کے عہدے پر بحال کیا جائے۔

قاہرہ کے مختلف علاقوں میں فوج تعینات کی جا چکی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جیرمی بوئن کا کہنا تھا کہ انھوں نے فوج کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا۔ ان کے مطابق فوج نے پہلے ہوا میں گولیاں چلائیں اور پھر ان کا رخ مظاہرین کی جانب کر دیا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے مصر کی فوج نے عوام کے پر امن احتجاج کے حق کی ضمانت دی تھی اور صدر مرسی کی برطرفی کے خلاف اخوان المسلمین کے حامیوں نے آج مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مصر کے عبوری رہنما اور آئینی عدالت کے سربراہ عدلی منصور نے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات عوام کی مرضی کے مطابق ہوں گے۔

ادھر افریقی ممالک کی تنظیم افریقین یونین نے صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد مصر کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ تنظیم کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین کی بحالی تک مصر تنظیم کی کسی بھی کارروائی میں شرکت نہیں کر سکے گا۔ بیان میں صدر مرسی کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیا گیا اور مصر کی نئی انتظامیہ سے تمام سیاسی عناصر سے بات کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اس سے پہلے کینیا کے صدر اوہورو کنیاٹا نے کہا تھا کہ ایک جمہوری طور پر منتخب رہنما کی برطرفی افریقہ کے لیے شدید تشویشناک ہے۔

دوسری جانب اخوان المسلمین کے ترجمان جہاد الحداد نے مصر میں عبوری حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا ہے۔

صدر محمد مرسی سمیت اخوان المسلمین کی دیگر قیادت حراست میں ہے اور کئی افراد کو حراست میں لینے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

اخوان المسلمین کے ترجمان جہاد الحداد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ محمد مرسی اور ان کی تمام صدارتی ٹیم کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تقریباً اخوان الملسمین کے تین سو اہم کارکنان کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔

مصر کی فوج کے سربراہ نے بدھ کی رات یہ کہہ کر کہ ’محمد مرسی لوگوں کے مطالبات پورے کرنے میں ناکام ہوگئے‘ محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔فوجی اقدام کو محمد مرسی نے ’فوجی بغاوت‘ قرار دیا تھا۔

جہاد الحداد نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ اخوان المسلمین ’فوجی بغاوت‘ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ انھوں نے محمد مرسی اور زیرِحراست دوسرے افراد کے رہائی کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمین نئی حکومت سے بالکل تعاون نہیں کرے گی اور وہ ’لوگوں کی طرف سے کیے گئے پرامن احتجاج‘ میں حصہ لے گی۔

دریں اثنا فوج نے اپنے فیس بک کے صفحے پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کی آذادی ہر شخص کا حق ہے۔

جہاد الحداد کے والد اور محمد مرسی کے سینیئر مشیر ایسام الحداد اور فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے سربراہ سعدالقطاتنی بھی زیرِ حراست افراد میں شامل ہیں۔

جمعرات کو نامعلوم سرکاری اہلکارروں نے کہا کہ اخوان المسلمین کے رہنماءِ اعلیٰ محمد بادی کو بھی مصرہ متروح میں گرفتار کیا گیا ہے۔

حراست میں لیے گئے بعض افراد بشمول محمد مرسی کے خلاف ’توہینِ عدالت‘ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اخوان المسملین کے 35 سینیئر رہنماوں کے سفر کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

دوسری طرف مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ملک میں تمام گروپوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کی نئی حکومت میں شریک ہوں۔

حلف برداری کی تقریب کے بعد عدلی منصور نے مصری عوام سے ایک منصفانہ جمہوریت کا وعدہ کیا جس میں سابق صدر مرسی کی اخوان المسلمین بھی شامل ہوگی۔

اخوان المسلمین اور اس کے سیاسی شاخ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی(ایف جے پی) کے سینیئر رہنماوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ نئی حکومت کے ساتھ کام نہیں کریں گے لیکن وہ ان کے خلاف نہ خود ہتھیار اٹھائیں گے اور نہ اپنے کارکنوں کی ایسا کرنے کے لیے حوصلہ آفزائی کریں گے۔

آئین کی پاسداری کی قومی اتحاد نے جو اسلامی جماعتوں کی ایک اتحاد ہے نمازِ جمعہ کے بعد اجتماعی دعا اور فوجی اقدامات کے مذمت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر سرکاری میڈیا کے مطابق مصر کی بااثر سلفی تحریک نے اسلام پسندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے احتجاج بند کریں۔

Image caption مصر کی فوج نے گزشتہ شب صدر محمد مرسی کو برطرف کرتے ہوئے ملک کا آئین معطل کرنے کے بعد ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا

مصر کی فوج نے بدھ کی رات صدر محمد مرسی کو برطرف کرتے ہوئے ملک کا آئین معطل کرنے کے بعد، ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔

گذشتہ اتوار سے شروع ہونے والے پْرتشدد مظاہروں کےدوران اب تک پچاس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ مرسی کے حامی اور مخالفین کے درمیان محاذ آرائی کا خدشہ ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے مصر کی فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے اور آئین کو معطل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ادھر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے حامی ٹی وی چینلز کی نشریات بھی بند کی گئیں ہیں اور ایک سرکاری چھاپا خانے نے ایف جے پی کے اخبار کو بھی چھاپنے سے انکار کیا ہے۔

سکیورٹی فورسز نے الجزیرہ کے مصر میں چینل کے دفتر پر چھاپہ مار کر چینل کے عملے کو حراست میں لیا ہے جس کی الجزیرہ نے مذمت کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چینلز کی نشریات کے بندش کو’اظہارِ رائے کی آذادی‘ کے لیے بڑا دھچکہ قرار دیا۔

محمد مرسی کو اقتدار سے نکالنے میں آرمی کے کردار پر جمعرات کو جشن مناتے ہوئے ہوائی جہاز ہوا میں دھوے کے بادل بناتے نظر آئے۔

دوسری طرف محمد مرسی کے حامیوں نے احتجاجی دھرنے دیے اور انھوں نے فوجی اقدامات کو جمہوریت کے ساتھ دھوکہ قرار دیا۔

محمد مرسی 30 جون 2012 کو انتخاب میں کامیابی کے بعد کسی مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے مصر کے پہلے صدر بنے تھے۔ ان کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینانی اور معیشت میں گراوٹ کی زد میں رہا۔

اسی بارے میں