مصر کا ناکام جمہوری تجربہ

Image caption مصر میں فوج کا احترام تھا لیکن ملکی سیاست میں فوج کی مداخلت نے عوام کو منقسم کر دیا ہے

محمد رمضان بہت خوش مزاج تھے لیکن اب وہ شدید غصے میں ہیں۔

رمضان کہتے ہیں ’فوج اور جنرل سیسی نے مصر سے غداری کی ہے، انھوں نے ہمارے انقلاب کو دھچکہ پہنچایا ہے۔ وہ مصری عوام کی حفاظت کے لیے تھے لیکن وہ ہمارا ہی گلا گھوٹ رہے ہیں‘۔

محمد ایک چھوٹی دیوار کے ساتھ کھڑے تھے جو قاہرہ میں سابق صدر مرسی کے حامیوں کے علاقے میں قائم ایک عارضی مورچہ ہے۔

اُن کی پشت پر بنے مورچے میں تین باریش افراد کھڑے تھے۔ جنہوں نے معمولی ہیلمٹ پہن رکھا تھا اور اُن کے ہاتھوں میں مختلف نوعیت کی لاٹھیاں اور پائپ تھے۔

جبکہ دوسری جانب ایک ایسا شخص ہے جو تربیت یافتہ ہے اور چست کھڑا ہے۔

میری ہتھیاروں پر جاتی ہوئی نظروں کے تعاقب میں ایک شخص دور سے چلایا ’اُن کے پاس بندوقیں اور جہاز ہیں اور ہمارے پاس صرف یہ ہیں‘۔

فوج نے مصری عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ عوام کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔

اس ملک کے لوگ فوج کا احترام کرتے ہیں لیکن ملکی سیاست میں فوج کی مداخلت اور صدر مرسی کی برطرفی نے عوام کی بڑی تعداد کو منقسم کر دیا ہے۔

اب یہاں ایک نہیں دو طرح کے مصر ہیں۔

ایک مصر وہ جس میں سابق صدر مرسی اور اُن کی جماعت اخوان المسلمین کے حامی ہیں جو محمد رمضان ہی کی طرح شدید غصے میں ہیں۔ یہ لوگ ملک میں جمہوری اقدار چاہتے ہیں۔

Image caption سنہ 2011 کے انقلاب سے پہلے کی طرح اب بھی بڑی سیاسی جماعت کے رہنما حراست میں ہیں

دوسرے مصر ابھی تک تحریر سکوائر پر موجود ہے جو صدارتی محل کے باہر جشن منا رہے ہیں۔ جہاز فضا میں رنگین بادل بنا رہے ہیں۔ہیلی کاپٹرز تحریر سکوائر پر بڑے بڑے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ یہ جہاز موجودہ حکمرانوں کی یاد دلا رہے ہیں۔

مصر کی سیکیولر حزب اختلاف کے رہنما جنہیں گزشتہ انتخابات میں شکست ہوئی تھی وہ ’بغاوت یا مداخلت‘ کا لفظ استعمال کرنے سے گریزاں ہیں۔ اُن کا موقف ہے کہ مصر کی فوج نے عوام کی درخواست پر صدر مرسی کو برطرف کیا ہے۔

حزب اختلاف کے رہنما اور فوج کے ناقد محمد البرادی نے کہا ’حسنی مبارک کا وقت ختم ہو گیا‘۔ انھوں نے کہا کہ ملک ’چٹان اور ایک سخت جگہ کے درمیان پھنس کر رہ گیا ہے‘۔

البرادی نے کہا کہ ’فوجی تحریک کا متبادل خانہ جنگی ہے‘۔ انھوں نے مصر میں جمہوریت کو ’نوزائیدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج کے حالیہ اقدام مصری انقلاب کو اس کی درست سمت کی جانب گامزن کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ سب سے بہتر تو یہ ہے مصر کی فوج ملک میں امن قائم کرے اور سیاسی سرگرمیاں بحال ہوں تاکہ انتخابات ہو سکیں۔ البرادی کہتے ہیں کہ بری صورتحال یہ ہے کہ مصر میں تشدد ہے۔

مصر کی سیاسی نظام پر کی جانے والی بات چیت سے جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ مصر میں جمہوریت کا تجربہ ناکام ہو گیا ہے۔

اخوان المسلمین ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ جس کے رہمنا سنہ 2011 کے انقلاب سے پہلے کی طرح اب بھی حراست میں ہیں۔

فوجی بغاوت مصر کے اقصادی مسائل تو حل نہیں کر سکتی لیکن اس نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ جو کہ ایک دور کے آغاز کے لیے ہرگز خوش آئند نہیں۔

اسی بارے میں