’اردن میں ابوقتادہ سے کیسا برتاؤ ہوگا‘

Image caption ابو قتادہ کو برطانیہ سے اردن روانہ کر دیا گیا ہے انھوں نے سنہ 1993 سے برطانیہ میں سیاسی پناہ لے رکھی تھی

ابوقتادہ کو اب جبکہ برطانیہ سے ملک بدر کر کے اُن کے وطن اردن روانہ کر دیا گیا ہے۔ اُن کے ملک میں اُن کے ساتھ کیا مسائل پیش آ سکتے ہیں، یہ انتہائی اہم ہے۔

انہیں معلوم ہے کہ دہشت گردی کے الزام میں ان پر پھر سے مقدمہ چلے گا لیکن اہم سوال یہ ہے کیا اُردن ایسے شخص کو مجرم قرار دے سکتا ہے جسے برطانوی جج نے ’خطرناک فرد‘ قرار دیا ہو؟

اُردن کے حکام ’جیل‘ جیسے لفظ کا استعمال پسند نہیں کرتے لیکن جب ابو قتادہ اپنی سرزمین پر اتریں گے تو انہیں صحیح معنوں میں وہیں بھیجا جائے گا۔

جب وہ جہاز سے اتریں گے تو ان کے خیر مقدم کے لیے کوئي پارٹی نہیں ہوگی۔ انہیں قید کرکے جیل لے جایا جائے گا جہاں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انھیں اُردن کی جنرل انٹلیجنس ڈائریکٹوریٹ (جی آئی ڈی) کے حوالے کیا جائے گا۔

اگر انہیں دارالحکومت میں میں رکھا گیا تو غالب گمان کے مطابق انہیں جویدہ ریفارم اور ری ہیبلیٹیشن سنٹر میں رکھا جائے گا جوکہ عمان کے جنوبی علاقے میں پرشور سڑک کے کنارے آباد ہے۔

اس میں قریب ایک ہزار قیدی ہیں جن کی سماعت جاری ہے۔

جیل کے جن حکام نے ہماری رہنمائی کی انہیں جیل میں موجود قیدیوں کی درجہ بندی بتانے کی اجازت نہیں ہے اور نہ وہ ہمیں جیل کی کوٹھریوں کو بھی دکھانے کے اہل تھے۔

اس کے برعکس ہمیں ایک ایسے کمرے میں لے جایا گیا جسے قیدیوں سے ملنے والے ان کے قریبی رشتے داروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں دیواروں پر ملکی جھنڈے اور سلطان کی تصویریں آویزاں ہیں اور جشن یوم آزادی کے باقیات نظر آتے ہیں۔ یہ کمرہ برطانیہ کے کسی گاؤں کے ہال کی طرح نظر آتا ہے۔

ابو قتادہ کے معاملے میں لوگوں میں جو دلچسپی ہے اس کے تحت کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ حراست کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کی جائے گی۔

برطانیہ اور اُردن کے درمیان معاہدے کے مطابق ان کے ساتھ اچھے سلوک کی اصولی ضمانت لی گئی ہے۔

برطانیہ کی وزیر داخلہ تھریسا مے نے اراکین پارلیمان کو بتایا کہ ’یہ کوئی ملٹری عدالت نہیں ہے‘ جیسا کہ بعض ناقدین کا خیال ہے۔

لیکن جب ہم دارالحکومت کے مکہ ضلعے کی جانب گئے تو ہم نے دیکھا کہ یہ عدالت فوجی ہیڈکوراٹر کے سامنے واقع ہے اور فوجی ایک احاطے سے عدالت کے فیصلے کے خلاف ایک جہادی گروپ کی جانب سے چھوٹے سے مظاہرے کو دیکھ رہے تھے۔

Image caption ایڈم گل کا کہنا ہے کہ آپ حکومت کی خیر سگالی کے جذبے پر منحصر ہیں

اسٹیٹ سیکوریٹی عدالت کی کاروائی میں ذرا تبدیلی لائی گئی ہے اور ابو قتادہ کے مقدمے کی سماعت تین سویلین ججوں کے ذریعے ہوگی۔ بہر طور اس میں استغاثہ ملٹری افسر ہیں۔

ایڈم کوگل عمان میں مقیم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ریسرچر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سویلین ججوں کا شامل کیا جانا غیر معمولی رعایت ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے آگاہ کیا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں انسانی حقوق کی کم پاسداری کی جاتی ہے ’آپ حکومت کی خیر سگالی کے جذبے پر منحصر ہیں‘۔

جب گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوں گیں تو ابو قتادہ کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور وہ دہشت گردی کی دو سازشوں کے الزامات کا سامنا کریں گے جن میں انہیں ملوث قرار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ ان کے خلاف پہلے تیار کی گئی فرد جرم کو خارج کردیا گیا ہے اس لیے ان پر از سر نو مقدمہ چلے گا۔

واضح رہے کہ ابوقتادہ نے 1993 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ لی تھی لیکن بعد میں برطانیہ میں یہودیوں کو اور اسلام کو چھوڑنے والے افراد کو ہلاک کرنے کی حمایت کرنے کی وجہ بدنام ہوئے۔

اپریل 1999 میں انہیں دھماکوں کی سازش کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا جو ’اصلاح اور چیلنج‘ نامی سماعت کے نام سے معروف ہے۔

اس کے بعد گزشتہ سال ان پر چار بم دھماکوں کا الزام لگایا گیا جن میں امریکی سکول میں دھماکے ساتھ عمان میں یروشلم ہوٹل کے دھماکے شامل تھے۔

اس کے لیے کڑی محنت کے بعد ابوقتادہ کو ان کی غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنائي گئی تھی۔

ان کے خلاف زیادہ تر شواہد اس سازش کے سرغنہ عبدالناصر الحماشر کے ذریعے آئے جس سے ان کا جرم ثابت ہوتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ دھماکے سے قبل ابو قتادہ نے حوصلہ افزائی کی تھی اور حملے کے بعد تعریف۔

بعد میں عبدالناصر نے کہا کہ انہیں جی آئی ڈی نے ٹارچر کیاتھا۔

جب انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے اس مقدمے پر نظر ڈالی تو انہوں نے کہا کہ اس بات کے شواہد تھے کہ عبدالناصر کو پیٹا گیا تھا۔

اور پھر اس نے ابوقتادہ کو اردن کے حوالے کیے جانے سے منع کردیا تھا۔ اسی فیصلے کے بعد برطانوی حکام ابوقتادہ کو اردن بھیجنے کے لیے دوروں پر دورے کرنے لگے۔

اردن کے حکام بظاہر انہیں واپس لینے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن مارچ میں ہونے والے معاہدے کے بعد یہ عمل ممکن ہو سکا۔

اسی بارے میں