مصر میں ہلاکتوں کے بعد حالات مزید کشیدہ

Image caption اس واقعے کے بعد صورتِ حال مزید خراب ہو گی

مصر میں حکام کا کنہا ہے کہ قاہرہ میں ایک فوجی بیرک کے پاس مظاہرے میں برطرف صدر مرسی کے حامی مظاہرین پر گولی چلائے جانے کے نتیجے میں کم از کم 42 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے اس واقعے کے تحقیقات عدالتی کمیٹی کے ذریعے کرانے کا حکم دیا ہے جبکہ واقعے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اراکین پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ فوجی بیرک کے پاس دھرنے پر بیٹھے تھے۔

یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ برطرف صدر محمد مرسی کو اسی بیرک میں رکھا گیا ہے۔

مصر میں حالات کشیدہ: ریڈیو رپورٹ

لیکن اس کے برعکس مصر کی فوج کا کہنا ہے کہ ایک ’دہشت گرد گروپ‘ نے صدارتی گارڈز کی فوجی بیرکوں کو توڑنے کی کوشش کی تھی۔

عبوری صدر عدلی منصور کے دفتر نے ان ہلاکتوں پر ’شدید افسوس‘ کا اظہار کیا ہے اور لوگوں سے نظم و ضبط قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔

اپنے ایک بیان میں عدلی منصور نے بھی یہ کہا ہے کہ ایک گروپ نے صدارتی گارڈز کی فوجی بیرکوں کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔

بہرحال صدر منصور نے ان ہلاکتوں میں عدالتی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور لوگوں سے فوجی اور ’حساس عمارتوں‘ سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی (ایف جے پی) نے مصری عوام سے ان لوگوں کے خلاف ’بغاوت‘ کی اپیل کی ہے جو بقول ان کے ’انقلاب پر ٹینکوں سے قدغن لگانا چاہتے ہیں‘۔

Image caption ایف جے پی نے مصریوں سے بغاوت کی اپیل کی ہے

ایف جے پی نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مصر میں ’مزید قتل عام روکنے‘ اور مصر کو ’دوسرا شام‘ بننے سے روکنے کے لیے مداخلت کریں۔

اطلاعات کے مطابق مصر میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں میں 300 افراد زخمی ہوئے۔

مصر کی فوج کے سربراہ نے بدھ کی رات مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جبکہ صدر مرسی کے حامیوں نے اس اقدام کو ’فوجی بغاوت‘ قرار دیا تھا۔

مصر میں محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مصر کے سابق صدر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھیں صدارتی گارڈز کلب میں رکھا گیا ہے۔

مظاہرے میں شریک محمود نامی شخص نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ریپبلکن گارڈز نے آنسو گیس کا استعمال کیا تاہم سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک گروپ نے فائرنگ کی۔

مصر کی فوج کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب مسلح دہشت گرد گروپ نے فوجی بیرکوں کو توڑنے کی کوشش کی۔

بیان کے مطابق اس واقعے میں 200 افراد کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے ہتھیار، گولہ بارود اور پٹرول بم برآمد کیے گئے۔

مصر کے مقامی ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مناظر میں زخمی افراد کو ایک مسجد میں لے جاتے ہوئے دکھایا گیا جہاں اخوان المسلمین کے حامی جمع ہیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کا کہنا ہے کہ متضاد اطلاعات کے باوجود اس واقعے کے بعد صورتِ حال مزید خراب ہو گی۔

عینی شایدین کا کہنا ہے کہ مصری فوج نے سابق صدر کے حامیوں کے دھرنے پر مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے اس وقت دھاوا بول دیا جب مظاہرین فجر کی نماز کی ادا کر رہے تھے۔

مصر کے میڈیا کے مطابق فوج اور پولیس نے اس وقت فائرنگ کی جب مظاہرین نے صدارتی گارڈز کلب کی دیواروں پر چڑھنے کی کوشش کی۔

اخوان المسلمین کےترجمان مصطفیٰ الخطیب نے قائرہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار احمد ماہر کو بتایا کہ انھوں نے سات افراد کی لاشیں دیکھی ہیں جن کے سر اور سینے پر گولیاں ماری گئیں۔

مصر کی فوج کے سربراہ نے بدھ کی رات مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جبکہ صدر مرسی کے حامیوں نے اس اقدام کو ’فوجی بغاوت‘ قرار دیا تھا۔مصر میں اتوار کو محد مرسی کے ہزاروں حامی اور مخالفین نے ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے تھے۔

اسی بارے میں