مصر سے قابل اور لائق افراد کا انخلا

Image caption نیبلہ کا شمار مصر کے اُن امیر خاندانوں میں ہوتا ہے جو اب مصر چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہونا چاہتے ہیں

سنہ 2011 میں مصر کے صدر حسنی مبارک کی برطرفی کے بعد سے اب تک ملک میں جاری عدم استحکام نے متوسط طبقے کو بیرون ملک منتقل پر مجبور کیا ہے۔ انھیں تعلیم اور سکیورٹی جیسی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں ہیں۔

مصر کا یہ طبقہ ملک کی اقتصادی مستقبل میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

گھر کے باغیچے میں اپنی جڑواں بیٹیوں کو جھولا جھولاتے ہوئے نبیلہ حمدی مسکرا رہی ہیں۔ وسیع گھر، صحت مند بچے اور اُن کی دیکھ بھال کے لیے ملازمہ یہ وہ تمام چیزیں جو خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے کافی ہیں۔ ان تمام آسائشوں کے باوجود وہ اور اُن کے شوہر برطانیہ منتقل ہو کر ایک نئی زندگی شروع کرنے والے ہیں۔

چھتیس سالہ نبیلہ نے کہا ’میرے شوہر تو دس سال قبل ہی یہاں سے نکلنا چاہتے تھے لیکن میں ہی تیار نہیں تھی۔ مصر میرا گھر ہے اور مجھے مصری ہونے پر فخر تھا لیکن 2011 کے انقلاب کے بعد چیزیں تیزی سے خراب ہوئی ہیں۔ ہم اب خوفزدہ رہتے ہیں‘۔

سابق صدر مرسی کی اقتدار سے برطرفی کے وقت اب نبیلہ برطانیہ منتقل ہو رہی ہیں جہاں اُن کے پاس ایک مکان ہے۔

اخوان المسلمین کے اقتدار میں آنے کے بعد معاشرے کے مزاج کی تبدیلی پر نبیلہ پریشان ہیں۔ اُن کے خیال میں عورت کو معاشرے میں دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جا رہا ہے اور اسی لیے انھوں نے مصر سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔

نیبلہ نے کہا ’میرا زندگی اب ویسی نہیں ہے۔وہاں مجھے (کام کاج) وہ مدد نہیں ملے گی جس کی میں عادی ہوں لیکن مجھے یہ یقین ہے کہ میرے بچے سڑک پر محفوظ ہیں میری بچیاں بڑی ہو رہی ہیں میں بہت خوش نصیب ہوں کہ میرے پاس یہ موقع ہے اگرچہ میں اپنے ملک سے محبت کرتی ہوں لیکن مجھے اپنے بچوں سے زیادہ محبت ہے‘۔

نیبلہ کے خاندان کا شمار مصر کے اُن خاندانوں میں ہوتا ہے جو اپنے آپ کو مڈل کلاس کہلواتے ہیں۔ مصر میں ایسے خاندانوں کی تعداد تو معلوم نہیں لیکن نیبلہ ملک چھوڑنے والی واحد خاتون نہیں ہیں۔

قاہرہ میں کام کرنے والے اقتصادی ادارے کے صدر انگس بلئیر کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس سال موسم گرما میں قابل اور لائق افراد کی مصر کی چھوڑنے کی اطلاعات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ متوسط طبقے میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کو پسند نہیں کرتے شاید وہ ان تبدیلیوں کو اپنی زندگی میں مداخلت سمھجتے ہیں۔

مصر میں ایک نجی سکول میں پندرہ سو طالب علموں میں سے دو سو طالب علموں نے اپنے آپ اگلے سیزن کے لیے سکول میں رجسٹر نہیں کروایا ہے۔

بلئیر کا کہنا ہے کہ متوسط طبقہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہے۔

سنہ 2011 میں حسنی مبارک کا تختہ اُلٹانے میں متوسط طبقے نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اب بھی متوسط طبقہ ہی ہے جو گزشتہ ہفتے صدر مرسی کی برطرفی کے لیے سڑکوں پر موجود تھا۔

سمیر عبدالعزیز جو اپنے خاندان کے ہمراہ قاہرہ کے مضافات میں رہتے ہیں اُن کے لیے مرسی کی برطرفی کی خبر بہت خوش آئند ہے۔اگرچہ اُن کی آمدن نیبلہ کے خاندان کے مقابلے میں کافی کم ہے لیکن وہ بھی اپنے آپ کو متوسط طبقے میں شمار کرتے ہیں۔

وہ اپنے بچوں کی سکولوں کی فیس جمع کروا رہے ہیں۔ اُن کی آمدن میں اضافہ نہیں ہوا ہے اور غذائی اشیا کی قیمتیں تیس فیصد بڑھ گئی ہیں۔ انھیں اس بات پر یقین ہے کہ ملک سے باہر تنخواہ زیادہ ہے لیکن وہ اپنے خاندان کو بیرون ملک منتقل نہیں کر سکتے ہیں۔

سمیر کہتے ہیں ’میں اپنے بچوں کے ساتھ مصر میں رہنے کو ترجیح دوں گا۔ چاہے ملک میں حالات صحیح ہوں یا نہیں میں (بچوں) کے ساتھ ہی ہوں گا۔ کہیں اور جانا میرے لیے ایسا ہی ہے جیسے فرار ہونا‘۔

اسی بارے میں