سربرنیتزا کے 409 مقتولین کی تدفین

Image caption ان 409 افراد کو پوٹوکاری نامی خصوصی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ہے

بوسنیا کے علاقے سربرنیتزا میں 1995 میں ہزاروں مسلمانوں کے قتلِ عام کی اٹھارہویں برسی کے موقع پر جمعرات کو مزید 409 مقتولین کی جسمانی باقیات کی تدفین کی تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

ان مقتولین کو بوسنیائی سرب فوج نے اس قتلِ عام کے بعد اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا تھا اور اب ان کی شناخت کے بعد انہیں علیحدہ علیحدہ قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کو دفن کیے جانے والے افراد میں تینتالیس نوعمر لڑکے اور ان نوزائیدہ بچہ بھی شامل ہے۔

تدفین کے منتظم افسر کنعان کرادچ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’آج ہم اس قتلِ عام کا شکار ہونے والے سب سے کم عمر فرد کو دفنا رہے ہیں جس کی باقیات 2012 میں ایک اجتماعی قبر سے ملی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس بچے کو اس کے والد حجرالدین کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا ہے جو خود بھی اس قتلِ عام میں مارے گئے تھے۔

ان 409 افراد کو پوٹوکاری نامی خصوصی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ہے جہاں اس قتلِ عام میں مارے جانے والے چھ ہزار چھیاسٹھ افراد اب تک دفن کیے جا چکے ہیں جبکہ 2306 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

تدفین کے موقع پر چھ ہزار سے زائد افراد پوٹوکاری پہنچے جہاں سبز کپڑے سے ڈھکے تابوتوں کو ایک بڑے ہال میں رکھا گیا تھا۔ قبرستان آنے والے افراد میں دفن کیے جانے والوں کے رشتہ داروں اور دوستوں کے علاوہ عام بوسنیائی شہری بھی شامل تھے۔

سربرنیتزا کو انیس سو نوے کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے خاتمے کے وقت اقوام متحدہ نے محفوظ علاقہ قرار دیا تھا۔

Image caption سبز کپڑے سے ڈھکے تابوتوں کو ایک بڑے ہال میں رکھا گیا تھا

سنہ انیس سو پچانوے میں چھ سے آٹھ جولائی کے درمیان بوسنیائی سرب افواج نے سربرینتزا کے اس محفوظ علاقے کا محاصرہ کر لیا جہاں پر شمال مشرقی بوسنیا میں سرب افواج کے حملے سے بچنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں بوسنیائی شہریوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

ہزاروں کی تعداد میں ان نہتے شہریوں کی حفاظت چھ سو کے قریب ڈچ انفینٹری دستے کر رہے تھے لیکن بوسنیائی سرب فوج نے معمولی ہتھیاروں سے لیس ہالینڈ کے فوجیوں پر مشتمل اقوام متحدہ کی اس فوج سے علاقے کا کنٹرول چھین لیا تھا۔

سربرنیتزا کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد میں بوسنیائی سرب فوجیوں نے وہاں موجود آٹھ ہزار سے زیادہ مسلمان مردوں اور لڑکوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس قتلِ عام کو یورپ میں جنگ عظیم دوئم کے بعد تشدد کا سب سے بڑا واقعہ بھی کہا جاتا ہے۔

سربرنیتزا کے قتلِ عام کو جرائم کی عالمی عدالت اور سابق یوگوسلاویہ کا جرائم ٹربیونل انسانی نسل کشی قرار دے چکا ہے اور اس سلسلے میں بوسنیائی سرب فوج کے سابق سربراہ رادوان کرادچ اور ان کے اہم کمانڈر رادکو ملادچ پر جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔

حکام نے کرادچ کو 2008 جبکہ ملادچ کو 2011 میں گرفتار کیا تھا۔ اب تک بوسنیائی سرب فوج اور پولیس کے 38 اہلکاروں پر سربرنیتزا کے قتلِ عام کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں