مصر:اخوان المسلمین کی ملین مارچ کی تیاریاں

Image caption سابق صدر مرسی کے حامی اُن کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سابق صدر مرسی کے حامی اور مخالفین بڑے مظاہرے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور سابق صدر مرسی کے حامیوں کو توقع ہے کہ ان کی بحالی کے لیے ہونے والے مظاہروں میں لاکھوں افراد شامل ہوں گے۔

اخوان المسلمین کے حامی گزشتہ ہفتے سے قاہرہ کے مشرقی حصے میں واقع ایک مسجد اور اس کے گردونواح میں موجود ہیں جبکہ صدر مرسی کے مخالفین کا مرکز دارالحکومت کا تحریر سکوائر ہے۔

صدر مرسی کی معزولی کے بعد ہونے والے مظاہروں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمین کی تحریک نے مصر کو منقسم کر دیا ہے لیکن مصر کے لوگ سیاست میں فوج کی مداخلت پر عدم اطمینان کا شکار ہیں۔

امریکہ نے مصر کی قیادت سے کہا ہے کہ وہ اخوان المسلمین کے ارکان کی اندھا دھند گرفتاریاں روک دے اور کسی بھی ایک گروہ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ ’اگر آپ کا مقصد سب عناصر کو شامل کرنا ہے تو آپ اپنے خلاف ہی کام رہے ہیں۔‘

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی کسی ایک جماعت کو علیحدہ کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

جمعرات کو امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے نو اعلیٰ عہدیداروں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

جے کارنی کا کہنا تھا کہ ’یہ سارا معاملہ اُسی وقت کامیابی کو پہنچے گا جب تمام جماعتوں کی شرکت کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انھیں شرکت کا موقع دیا جائے گا۔ اسی لیے ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ہم اندھا دھند گرفتاریوں کی حمایت نہیں کر سکتے۔‘

مصر کے وزیرِ خارجہ کامل امر سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بان کی مون کا کہنا تھا کہ مصر میں کسی بھی بڑی پارٹی کے نکالنے جانے یا اُس سے انتقام لیے جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گرفتاریاں مصری فوج کی جانب سے تمام عناصر کی شرکت کو یقینی بنانے کی امریکہ کو دی گئی یقین دھانیوں کی خلاف ورزی ہیں۔

اس سے پہلے صدر مرسی کی اسلام پسند جماعت اخوان المسلمین نے فوج کی جانب سے صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے عمل کے خلاف ’پرامن‘ جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

محمد مرسی کو تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر ملک میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔

اخوان المسلمین کی جانب سے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آئینی جمہوریت کے خلاف فوج کی خونی بغاوت کے خلاف اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہمیں یقین ہے کہ عوام کی پرامن اور مقبول خواہش طاقت اور تشدد پر فتح حاصل کرے گی۔‘

مصر کی موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے سابق صدر محمد مرسی کو گرفتار کرنے کے بعد ’محفوظ مقام‘ پر رکھا گیا ہے۔

مصر میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعطی نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں بتایا کہ انھیں یہ معلوم ہے کہ صدر مرسی کہاں ہیں لیکن صدر مرسی کو ’بہت باعزت طریقے‘ سے رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس پیش رفت سے پہلے امریکی حکام نے تصدیق کی تھی کہ مصر میں جاری کشیدگی کے باوجود بھی دفاعی معاہدے کے تحت امریکہ مصر کو ایف سولہ لڑاکا طیارے دے گا۔

فوج کی جانب سے صدر مرسی کی حکومت برطرف کرنے کے بعد سے امریکہ کا موقف تھا کہ وہ فوج کے اس اقدام کا ابھی جائزہ لے رہا ہے۔

امریکی قوانین کے مطابق مصر میں حکومت کی برطرفی کو ’بغاوت‘ قرار دینے پر مصر کو ملنے والی فوجی امداد بند ہو جائے گی۔

اسی بارے میں